حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 318
318 نامی رئیسوں کی طرف سے منتخب ہو کر اس طور سے مجھ سے مقابلہ کرے جو دوسخت بیماروں پر ہم دونوں اپنے صدق و کذب کی آزمائش کریں یعنی اس طرح پر کہ دو خطرناک بیمار لیکر جو جدا جدا بیماری کی قسم میں مبتلا ہوں قرعہ اندازی کے ذریعہ سے دونوں بیماروں کو اپنی اپنی دعا کیلئے تقسیم کر لیں۔پھر جس فریق کا بیمار بکلی اچھا ہو جاوے یا دوسرے بیمار کے اس کی عمر زیادہ کی جائے وہی فریق سچا سمجھا جاوے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور میں پہلے سے اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر بھروسہ کر کے یہ خبر دیتا ہوں کہ جو بیمار میرے حصہ میں آوے گا یا تو خدا اسے بکلی صحت دے گا اور یا بہ نسبت دوسرے بیمار کے اس کی عمر بڑھا دے گا اور یہی امر میری سچائی کا گواہ ہو گا۔اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر یہ سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔لیکن یہ شرط ہو گی کہ فریق مخالف جو میرے مقابل پر کھڑا ہو گا وہ خود اور ایسا ہی دس اور مولوی یا دس رئیس جو اس کے ہم عقیدہ ہوں یہ شائع کر دیں ہ در حالت میرے غلبہ کے وہ میرے پر ایمان لائیں گے اور میری جماعت میں داخل ہوں گے اور یہ اقرار تین نامی اخباروں میں شائع کرانا ہو گا۔ایسا ہی میری طرف سے بھی یہی شرائط ہوں گی۔۔اس قسم کے مقابلہ سے فائدہ یہ ہوگا کہ کسی خطرناک بیمار کی جو اپنی زندگی سے نومید ہو چکا ہے خدا تعالیٰ جان بچائے گا اور احیاء موتی کے رنگ میں ایک نشان ظاہر کرے گا۔والسلام علی من اتبع الھدیٰ المشتهر میر ز غلام احمد قادیانی مسیح موعود ۵ مئی ۱۹۰۸ء چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۳۲ صفه ۴) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ” استجابت دعا میں مقابلہ کے علاوہ تمام مخالف علماء کو اس