حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 316
316 پھر فرماتے ہیں۔” اس اشتہار کے دینے سے اصل غرض یہی ہے کہ مذہب میں سچائی ہے وہ کبھی اپنا رنگ نہیں بکل سکتی۔جیسے اول ہے ویسے ہی آخر ہے۔سچامذ ہب کبھی خشک قصہ نہیں بن سکتا۔سو اسلام سچا ہے۔میں ہر ایک کو کیا عیسائی کیا آریہ اور کیا یہودی اور کیا برہمو اس سچائی کے دکھلانے کے لئے بلاتا ہوں۔کیا کوئی ہے جو زندہ خدا کا طالب ہے۔ہم مردوں کی پرستش نہیں کرتے۔ہمارا خدا زندہ خدا ہے۔وہ ہماری مدد کرتا ہے۔وہ اپنے الہام اور کلام اور آسمانی نشانوں سے ہمیں مدد دیتا ہے۔اگر دنیا کے اس سرے سے اس سرے تک کوئی عیسائی طالب حق ہے تو ہمارے زندہ خدا اور اپنے مردہ خدا کا مقابلہ کر کے دیکھ لے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس باہم امتحان کے لئے چالیس دن کافی ہیں۔افسوس کہ اکثر عیسائی شکم پرست ہیں۔وہ نہیں چاہتے کہ کوئی فیصلہ ہو ورنہ چالیس دن کیا حقیقت رکھتے ہیں۔آتھم کی طرح اس میں کوئی شرط نہیں۔اگر میں جھوٹا نکلوں تو ہر ایک سزا کا مستوجب ہوں۔لیکن دعاء کے ذریعہ سے مقابلہ ہو گا۔جس کا سچا خدا ہے بلاشبہ سچار ہے گا۔اس باہمی مقابلہ میں بیشک خدا مجھے غالب کرے گا۔اور اگر میں مغلوب ہوا تو عیسائیوں کے لئے فتح ہوگی جس میں میرا کوئی جواب نہیں۔اور جو تاوان مقرر ہو اور میری مقدرت کے اندر ہو دوں گا۔لیکن اگر میں غالب ہوا تو عیسائی مقابل کو مردہ خدا سے دست بردار ہونا ہوگا اور بلا توقف مسلمان ہونا پڑے گا اور پہلے ایک اشتہا ر انہیں شرائط کے ساتھ بہ ثبت شہادت وہ کس معزز آدمیوں کے دینا ہو گا۔اس سے روز کا جھگڑا طے ہو جائے گا۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۲۱۲ ۲۱۳)