حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 10 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 10

10 تشریف لے جائیے۔سو انہوں نے ہی بلایا تھا اور انہوں نے ہی رخصت کیا۔آپ کا تو درمیان میں قدم ہی نہ تھا۔پھر آپ کا یہ جوش جو تار کے فقرات سے ظاہر ہوتا ہے کس قدر بے محل ہے۔آپ خود انصاف فرماویں۔جب کہ ان سب لوگوں نے کہ دیا اب ہم مولوی محمد حسین کو بلا نا نہیں چاہتے ہماری تسلی ہوگئی اور وہی تو ہیں جنہوں نے مولوی صاحب کو لدھیانہ سے بلایا تھا تو پھر مولوی صاحب آپ سے اجازت کیوں مانگتے۔کیا آپ سمجھ نہیں سکتے۔اور اگر آپ کی یہ خواہش ہے کہ بحث ہونی چاہئے جیسا کہ آپ اپنے رسالہ میں تحریر فرماتے ہیں تو یہ عاجز بسر و چشم حاضر ہے۔مگر تقریری بحثوں میں صد با طرح کا فتنہ ہوتا ہے۔صرف تحریری بحث چاہئے اور وہ یوں کہ سادہ طور پر چار ورق کاغذ پر آپ جو چاہیں لکھ کر پیش کریں اور لوگوں کو بآواز بلند سنا دیں اور ایک نقل اس کی اپنے دستخط سے مجھے دے دیں اور پھر بعد اس کے میں بھی چار ورق پر اس کا جواب لکھوں اور لوگوں کو سناؤں۔ان دونوں پر چوں پر بحث ختم ہو جاوے۔اور فریقین میں سے کوئی ایک کلمہ تک تحریری طور پر اس بحث کے بارہ میں بات نہ کرے جو کچھ ہو تحریری ہو اور پرچے صرف دو ہوں۔اول آپ کی طرف سے ایک چو ورقہ جس میں آپ میرے مشہور کردہ دعوی کا قرآن کریم اور حدیث کی رو سے رد لکھیں اور پھر دوسرا پر چہ چو ورقہ اسی تقطیع کا میری طرف سے ہو جس میں میں اللہ جلشانہ کے فضل و توفیق سے رڈالر دیکھوں اور انہی دو پرچوں پر بحث ختم ہو جائے۔اگر آپ کو ایسا منظور ہوتو میں لاہور میں آ سکتا ہوں اور انشاء اللہ امن قائم رکھنے کیلئے انتظام کرادوں گا۔یہی آپ کے رسالہ کا بھی جواب ہے۔اب اگر آپ نہ مانیں تو پھر آپ کی طرف سے گریز متصور ہوگی۔والسلام میرزاغلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج ۱۶ را پریل ۱۸۹۱ء مکرر یہ کہ جس قدر ورق لکھنے کیلئے آپ پسند کر لیں اسی قدر اوراق پر لکھنے کی مجھے