حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 7 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 7

غزنوی مولوی عبدالرحمن صاحب لکھو کے والے مولوی شیخ عبید اللہ صاحب تبتی مولوی عبدالعزیز صاحب لدھیانوی معه برادران اور مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری۔( مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۲۰۴،۲۰۳) مولوی محمد حسین بٹالوی کا رد عمل مولوی محمد حسین بٹالوی نے اس چیلنج کے موصول ہونے پر لکھا کہ :۔۲۹ مارچ ۱۸۹۷ء کو لدھیانہ سے ایک خط پہنچا جو نہ تو مرزا صاحب کے قلم کا لکھا ہوا تھا اور نہ اس پر مرزا صاحب کا دستخط ثبت تھا اور اس کے ساتھ مرزا صاحب کا وہ اشتہار پہنچا جو ۲۶ مارچ ۱۸۹۲ء کو انہوں نے شائع کیا تھا۔“ اس خط پر مولوی صاحب مذکور نے یہ لکھ کر واپس کر دیا کہ:۔اس خط پر مرزا صاحب کا دستخط نہیں ہے لہذا واپس ہے۔“ یکم اپریل کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ لکھ کر کہ:۔اس عاجز کی منشاء کے موافق ہے“ اسے پھر مولوی محمد حسین صاحب کو واپس بھیج دیا۔جس کے جواب میں مولوی صاحب نے لکھا کہ اس خط اور اس اشتہار (مورخہ ۲۶ مارچ) سے آپ نے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کو منقطع کر دیا ہے اور مخاصمانہ مباحثہ کی بناء کو قائم ومستحکم کر دیا ہے۔لہذا ہم بھی آپ سے دوستانہ و برادرانہ بحث بلکہ پرائیویٹ ملاقات تک نہیں چاہتے۔اور مخاصمانہ مباحثہ کے لئے حاضر و مستعد ہیں۔(اشاعۃ السنہ جلد ۲ صفحه ۱۲) اس کے بعد مولوی صاحب نے اشاعۃ السنہ میں یہ ذکر کر کے کہ اب اشاعۃ السنہ صرف آپ کے دعاوی کار د شائع کرے گا اور آپ کی جماعت کو تتر بتر کرنے کی کوشش کرے گا اور یہ کہ اشاعۃ السنہ کا ریویو براہین آپ کو امکانی ولی ولہم نہ بنا تا تو آپ تمام مسلمانوں کی نظر میں بے