حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 253
253 اگر مضمون کسی بند لفافہ کا جو میری طرف سے پیش ہو ، دس ہفتہ تک مجھ کو بتلایا جاوے تو میں بلا توقف دین مسیحی سے بیزار ہو کر مسلمان ہو جاؤں گا۔اور اگر ایسا نہ کروں تو ہزار روپیہ جو پہلے سے کسی ثالث منظور کردہ کے پاس جمع کرا دوں گا بطور تاوان انجمن حمایت اسلام لاہور میں داخل کیا جاوے گا۔اس تحریری اقرار کے پیش ہونے اور نیز نورافشاں میں چھپنے کے بعد اگر دس ہفتہ تک ہم نے لفافہ بند کا مضمون بتلا دیا تو ایفاء شرط کا پادری صاحب پر لازم ہو گا ورنہ ان کے روپیہ کی ضبطی ہوگی۔اور ہم نہ بتلا سکے تو ہم دعوئی الہام سے دست بردار ہو جائیں گے اور نیز جو سزا زیادہ سے زیادہ ہمارے لئے تجویز ہو وہ بخوشی خاطر اٹھا لیں گے۔فقط ( مجموعہ اشتہارات جلد ا صفحه ۱۵۲) ایک غلط بہتان کو ثابت کرنے کا چیلنج ۱۸۸۷ء میں قادیان کے چند ہندوؤں کی طرف سے بامداد واعانت لیکھرام پیشاوری ایک رساله بعنوان سرمہ چشم آریہ کی حقیقت اور فن فریب غلام احمد کی کیفیت امرتسر سے شائر ہوا۔جو نہایت گندہ اور دل آزار اور سخت کلامی سے پر تھا۔اور حضرت اقدس پر بے اصل الزامات لگائے گئے۔جن میں سے ایک بالکل فرضی بہتان یہ تھا کہ قادیان میں جان محمد کشمیری مرزا صاحب کی مسجد کے امام کا پانچ سالہ لڑ کا سخت بیمار ہو کر قریب المرگ ہو گیا تھا۔بظاہر اس بچے کے بچنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے۔ایسی حالت میں وہ اس بچہ کو مرزا صاحب کے پاس لے گیا اور دعا کی درخواست کی۔اس پر مرزا صاحب نے کہا کہ آپ کے آنے سے پہلے ہی الہام ہوا ہے کہ اس لڑکے کیلئے قبر کھو دو یہ سن کر وہ سخت پریشان ہو گیا اور اس کے ہوش باختہ ہو گئے۔اور واپس گھر آ گیا۔مگر گھر پہنچتے ہی اس بچے میں صحت کے آثار نظر آنے لگے اور تھوڑی دیر بعد لڑکا تندرست ہو گیا۔اس پر جب لوگوں نے مرزا صاحب کے الہام ہنسی اڑائی تو جواب دیا کہ الہام غلط نہیں ہو سکتا۔دایم یہ بچہ زندہ نہیں رہ سکتا۔مگر پھر بھی وہ بچہ صحت یاب ہو گیا۔آریوں