حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 252
252 وقوع طلب کرنا چاہیں تو ہم بدیں شرط جلسہ عام میں پیش کریں گے کہ اگر ہماری پیشگوئی پیش کرده بنظر حاضرین جلسه صرف انکل اور اندازہ ہو ، انسانی طاقتوں سے بالاتر نہ ہو یا بالآ خر جھوٹی نکلے تو دوسوروپیہ ہرجانہ پادری صاحب کو دیا جائے گا ورنہ بصورت دیگر پادری صاحب کو مسلمان ہونا پڑے گا۔( مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۱۵۱) مگر پادری وائٹ بریجنٹ صاحب نے اس جلسہ میں آنا قبول نہ کیا حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک ماہ تک انتظار فرماتے رہے۔لیکن بعد میں میاں فتح مسیح نے نے جون ۱۸۸۸ء کے اخبار نورافشاں میں چھپوا دیا کہ ہم اس طور پر تحقیق الہامات کیلئے جلسہ کر سکتے ہیں کہ ایک جلسہ منعقد ہو کر چار سوال بند کاغذ میں حاضرین جلسہ میں سے کسی کے ہاتھ میں دے دیں گے وہ ہمیں الہا ما بتلائے جائیں۔اس کے جواب میں آپ نے فرمایا :۔”اس کے جواب میں اول تو یہ ظاہر کرنا ضروری ہے کہ جیسا کہ ہم اپنے اشتہار ۲۴ مئی ۱۸۸۸ء میں لکھ چکے ہیں۔فتح مسیح کی طینت میں دروغ ہی دروغ ہے۔ہرگز مخاطب ہونے کے لائق نہیں۔اور اس کو مخاطب بنانا اور اس کے مقابل پر جلسہ کرنا ہر ایک راست باز کیلئے عاروننگ ہے۔ہاں اگر پادری وائٹ بریجنٹ صاحب ایسی درخواست کریں کہ جو نورافشاں ۷ جون ۱۸۸۸ء کے صفحہ ے میں درج ہے تو ہمیں بسر و چشم منظور ہے۔ہمارے ساتھ وہ خدائے قادر و علیم ہے جس سے عیسائی لوگ ناواقف ہیں۔وہ پوشیدہ بھیدوں کو جانتا ہے اور ان کی مدد کرتا ہے جو اس کے خالص بندے ہیں۔لیکن لہو ولعب کے طور پر اپنا نام لینا پسند نہیں کرتا۔پس اگر پادری وائٹ بریجنٹ صاحب ایک عام جلسہ بٹالہ میں منعقد کر کے اس جلسہ میں حلفاً اقرار کریں کہ