حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 233 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 233

233 خود قادیان میں آوے اس کا کرایہ میرے ذمہ ہوگا۔جانبین کی تحریرات چھپ جائیں گی۔اگر خدا نے اس کو ایسے عذاب سے ہلاک نہ کیا جس میں انسان کے ہاتھوں کی آمیزش نہ ہو تو میں کا ذب ٹھہروں گا۔اور تمام دنیا گواہ رہے۔کہ اس صورت میں اسی سزا کے لائق ٹھہروں گا۔جو مجرم قتل کو دینی چاہئے میں اس جگہ سے دوسرے مقام نہیں جاسکتا۔مقابلہ کرنے والے کو آپ آنا چاہئے۔مگر مقابلہ کرنے والا ایک ایسا شخص ہو جو دل کا بہت بہادر اور جوان اور مضبوط ہو۔اب بعد اس کے سخت بے حیائی ہوگی کہ کوئی غائبانہ میرے پر ایسے ناپاک شبہات کرے۔میں نے طریق فیصلہ آگے رکھ دیا ہے۔اگر میں اس کے بعد روگردان ہو جاؤں تو مجھ پر خدا کی لعنت۔اور اگر کوئی اعتراض کرنے والا بہتانوں سے باز نہ آوے اور اس طریق فیصلہ سے طالب تحقیق نہ ہو تو اس پر لعنت“ (سراج منیر۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۹) رد عمل رو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مذکورہ بالا دعوت قسم کے مقابلہ میں اور تو کسی کو جرات نہ ہوئی کہ ایسی قسم کھاوے البتہ آریہ قوم میں سے ایک شخص گنگا بشن نے آپ کی خدمت میں لکھا کہ میں قسم کھانے کو تیار ہوں مگر اس کے لئے انہوں نے تین شرطیں لگا دیں۔اول یہ کہ اگر پیشگوئی پوری نہ ہوئی تو (نعوذ باللہ من ذلک ) حضرت اقدس کو پھانسی کی سزا دی جائے۔دوم۔یہ کہ ان کے لئے یعنی لالہ گنگا بشن کیلئے دس ہزار روپیہ گورنمنٹ میں جمع کروایا جائے۔یا ایسے بنک میں جس میں ان کی تسلی ہو سکے اور وہ بددعا سے نہ مریں تو ان کو وہ رو پھیل جائے۔سوم۔یہ کہ جب وہ قادیان میں قسم کھانے کیلئے آویں تو اس بات کا ذمہ لیا جائے کہ لیکھرام کی طرح نہ کئے جائیں۔