حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 224 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 224

224 اسلام کیلئے۔پس تیرے پر لازم ہے کہ تو جناب باری تعالیٰ کی قسم کھا جائے اور قسم کھا کر کہے کہ اس مقدمہ میں حق نصاری کے ساتھ ہے اور خدا تعالیٰ سے دعا کرے کہ وہ آسمان سے تیرے پر ذلت کو مار نازل کرے۔اگر حقیقت امر خلاف واقعہ ہو پس اگر بعد اس کے ایک برس تک تجھ کو ذلت اگور رسوائی نہ ہوئی۔پس میں اقرار کرلوں گا کہ میں جھوٹا ہوں اور تجھ کو امام کی طرح جانوں گا اور اگر تو قسم نہ کھائیا اور نہ باز آئے پس تجھ پر لعنت اے دشمن اسلام ! “ (حجۃ اللہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۰۹،۲۰۸) ان تمام چیلنجوں کے باوجود کوئی شخص مرد میدان بن کر سامنے نہ آیا۔نہ عیسائیوں میں سے اور نہ ہی معاند اور مکفر مولویوں میں سے۔اور اس طرح ایک رنگ میں سب دشمنوں پر آپ نے حجت پوری کر دی۔آتھم کے بارہ میں پیشگوئی کے متعلق مسلمان علماء کو دیئے گئے چیلنج پادری عبداللہ آتھم والی پیشگوئی وعیدی ہونے کی وجہ سے تو بہ کے نتیجہ میں ٹل گئی جس پر منکرین نے پیشگوئی کے پورا نہ ہونے کا شور مچایا تو اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مخالف علماء کو چیلنج دیتے ہوئے فرمایا۔اس عادت اللہ سے تو سارا قرآن اور پہلی سماوی کتا بیں بھری ہوئیں ہیں کہ عذاب کی پیشگوئیوں کی میعاد تو بہ اور استغفار سے اور حق کی عظمت کا خوف اپنے دل پر ڈالنے سے ملتی رہی ہے جیسا کہ یونس نبی کا قصہ ہی اس پر شاہد ہے جن کی قوم کو قطعی طور پر بغیر بیان کسی شرط کے چالیس دن کی میعاد بتلائی گئی تھی لیکن حضرت آدم سے لے کر ہمارے نبی صلعم تک ایسی کوئی نظیر کسی نبی کے عہد میں نہیں جلے گی اور نہ کسی ربانی کتاب میں اس کا پتہ ملے گا کہ سکی شخص یا کسی قوم نے عذاب کی خبر سن کر اور اس کی میعاد سے مطلع ہو کر قبل نزول عذاب تو بہ اور خوف الہی کی طرف رجوع کیا ہو اور