حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 222 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 222

222 انسانی کانشنس گواہ ہے کہ قطع خصومات کے لئے انتہائی حد قسم ہے۔گورنمنٹ کے تمام عہدیدار قسم کھاتے ہیں پطرس ، پولوس ، اور خود مسیح نے قسم کھائی۔فرشتے بھی قسم کھاتے ہیں خدا بھی قسم کھاتا ہے۔نبیوں نے بھی قسمیں کھائی ہیں۔آپ نے یہ تمام امور حوالہ جات بائیبل اپنی کتاب ضمیمہ انوار الاسلام صفحہ ۱۰۴ تا ۱۱۲ میں لکھے مگر اس کے باوجود آتھم صاحب قسم اٹھانے کیلئے تیار نہ ہوئے۔جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا گیا ہے کہ بعض مخالف علماء اسلام نے بھی عیسائیوں کے ساتھ مل کر پیشگوئی کے جھوٹا ہونے کا پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ان میں سے ایک مولوی محمد حسین بٹالوی بھی شامل تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب آتھم کو قسم کھانے کا چیلنج دیا تو مولوی محمد حسین بٹالوی نے آتھم کی وکالت کرتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا کہ عیسائی مذہب میں قسم کھانا منع ہے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی صاحب کو چیلنج دیتے ہوئے فرمایا۔اگر میاں محمد حسین بٹالوی آتھم صاحب کی وکالت کر کے یہ رائے ظاہر کرتے ہیں کہ عیسائی مذہب میں قسم کھانا منع ہے تو اس پر واجب ہے کہ اب عیسائیوں کے مددگار بن کر اپنی اس ہذیان کا پورا پورا ثبوت دیں اور اس اشتہار کا رولکھا ئیں اور بجز اس کے اور کیا کہیں کہ لعنت اللہ علی الکاذبین۔“ (ضمیمہ انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۱۱۵ ح ) بعض معترضین نے کہا ہو سکتا ہے کہ ایک برس میں انہوں نے مر ہی جانا ہو۔آپ نے اس کے جواب میں فرمایا۔اب تو خداؤں کی لڑائی ہے۔یہ شک ٹھیک نہیں کہ شاید برس میں مرنا ممکن ہے۔اگر اسی طرح کی قسم راستی کی آزمائش کیلئے ہم کو دی جائے تو ہم ایک برس کیا دس برس تک زندہ رہنے کی قسم کھا سکتے ہیں۔کیونکہ دینی بحث کے وقت ضرور خدا تعالیٰ ہماری مدد