حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 211 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 211

211 اس کے پھیلنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا اس لئے علماء حضرات اور حضور کے مکذبین و مکفرین کو حضور کے خلاف شور مچانے اور استہزاء کرنے کا ایک موقع میسر آ گیا۔چنانچہ تحریر وتقریر کے ذریعہ اس پیشگوئی کے خلاف خوب ہنسی اڑائی گئی۔پیسہ اخبار نے جو اس وقت کے مشہور اخباروں میں سے تھا لکھا۔مرزا اسی طرح لوگوں کو ڈرایا کرتا ہے۔دیکھ لینا خود اسی کو طاعون ہوگی۔“ آخر حضور کی پیشگوئی کے مطابق اس کے چند ماہ بعد پہلے جالندھر اور ہوشیار پور کے اضلاع میں طاعون پھوٹی۔لیکن چونکہ ابھی اس نے دوسرے علاقوں میں پوری طرح زور نہیں پکڑا تھا اس لئے شقی القلب علماء اور عوام نے بجائے اس وعید سے فائدہ اٹھانے اور توبہ استغفار سے کام لینے کے تکذیب و تمسخر کی راہ اختیار کی تو خدائے ذوالجلال کا غضب اور بھڑ کا اور ۱۹۰۲ء میں طاعون نے اس قدر زور پکڑا کہ لوگ کتوں کی طرح مرنے لگے اور گھروں کے گھر خالی ہو گئے۔اور لاشیں گھروں میں سڑنے لگیں۔غور کا مقام ہے کہ ایک شخص جسے لوگ نعوذ باللہ کذاب اور دجال کہتے تھے وہ ملک میں طاعون کی آمد سے چار سال قبل جبکہ اس موذی مرض کا نام ونشان بھی اس ملک میں موجود نہ تھا طاعون کی خبر دیتا ہے پھر ایسے وقت میں جب کہ مرض پوری شدت کے ساتھ ملک میں پھیل گئی اور لوگ کتوں کی طرح مرنے لگے اپنی اور اپنے اہل وعیال اور اپنے گھر اور اپنے مولد ومسکن کی عصمت و حفاظت کی الہامی خبر ان الفاظ میں دیتا ہے۔احافظ كل من فى الدارى الا الذى علوا من استكبار و احافظک خاصه (نزول المسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۰۱) کہ جولوگ تیرے گھر کی چار دیواری میں ہوں گے ان کی حفاظت کروں گا مگر وہ لوگ جو تکبر سے اپنے تئیں اونچا کرتے ہیں۔اور تیری خاص طور پر حفاظت کروں گا۔