حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 210 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 210

210 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی پیشگوئیوں کو بھی اپنی سچائی کیلئے بطور معیار صداقت پیش فرمایا۔چنانچہ آپ کی ہزاروں کی تعداد میں ہر رنگ میں پیشگوئیاں پوری ہوئیں۔آپ نے اپنی ذات ، اپنی اولاد ، اپنے خاندان گھر والوں دوستوں اور دشمنوں غرضیکہ ہر حصہ کے متعلق پیشگوئیاں فرمائیں اور وہ پوری ہو کر مومنوں کیلئے از دیا ایمان کا موجب ہوئیں۔لیکن آپ کے مخالفین ہمیشہ کی طرح انکار کرتے رہے اور کمال صفائی سے پوری ہونے والی پیشگوئیوں پر بھی طرح طرح کے بے جا اعتراض کئے جن کے جواب دیتے ہوئے آپ نے بے شمار چیلنج دیئے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔طاعون کی پیشگوئی کے متعلق چیلنج حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ۶ فروری ۱۸۹۸ء کو کشف میں دیکھا کہ:۔” خدا تعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بدشکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں۔“ نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۰۴ ) آگے حضور فرماتے ہیں۔” لگانے والوں سے میں نے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔“ نزول مسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۰۴) اس پیشگوئی کی اشاعت کیلئے آپ نے اسی روز ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں لوگوں کو مشورہ دیا کہ چونکہ اس پیشگوئی کے مطابق عنقریب نہایت وسیع پیمانے پر طاعون پھیلنے والی ہے اس لئے طاعون کے ایام میں بہتر ہوگا کہ لوگ اپنی بستیوں سے باہر کھلے میدان میں قیام کریں۔چونکہ اس اشتہار کے شائع ہونے کے وقت ملک میں طاعون کا نام ونشان بھی نہیں تھا اور بظاہر