حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 209 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 209

209 اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔پیشگوئیاں عالم الغيب فلايظهر على غيبه احدا الا من ارتضى من رسول (الجن: ۲۷) ترجمہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے پس وہ اپنے غیب پر کسی کو غلبہ نہیں دیتا بجز اس شخص کے جو اس کا برگزیدہ رسول ہو۔اس آیت کریمہ میں غیبہ سے مراد خالص غیب ہے جس کا علم سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں ہوتا۔اسی غیب کے متعلق وہ فرماتا ہے۔عنده مفاتح الغيب لا يعلمها الا هو (انعام: ۴۰) یعنی غیب کی کنجیاں خدا تعالیٰ کے پاس ہیں اور غیب کو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔پس جس شخص کو خالص غیب پر جسے اللہ ہی جانتا ہے اطلاع دی جائے صاف ظاہر ہوگا کہ اس کیلئے غیب کا خزانہ غیب کی چابیوں سے خدا نے خودکھلا ہے۔کوئی شخص ایسے خزانے کو چرا نہیں سکتا۔پس جس شخص کو بکثرت امور غیبیہ پر اطلاع دی جائے اور وہ خبریں بھی عظیم الشان ہوں اور آفاق اور انفس سے تعلق رکھتی ہوں اور وہ وقوع میں بھی آجائیں تو یہ امور غیبیہ یا بالفاظ دیگر پیشگوئیاں اس شخص کے منجانب اللہ ہونے پر الہی شہادت ہوتی ہیں۔اس حقیقت کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر فرماتا ہے۔و ان یک صادقا يصبكم بعض الذي يعدكم۔(مومن : ۲۹) یعنی اگر یہ رسول سچا ہے تو پھر اس کی پیشگوئیوں میں سے ضرور بعض تم کو پہنچ جائیں گی۔گویا اس آیت کریمہ میں پیشگوئیوں کو علامت صدق قرار دیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ