حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 167 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 167

167 چھاپ دیں اور پھر انہیں نمبروں کی ترتیب کے لحاظ سے ہر ایک اعتراض اور سوال کا جواب دینا شروع کریں۔لہذا عام طور پر تمام عیسائیوں اور ہندؤں اور آریوں اور یہودیوں اور مجوسیوں اور دہریوں اور برہمیوں اور طبیعوں اور فلسفیوں اور مخالف الرائے مسلمانوں وغیرہ کو مخاطب کر کے اشتہار دیا جاتا ہے کہ ہر ایک شخص جو اسلام کی نسبت یا قرآن شریف اور ہمارے سیّد اور مقتدا اور خیر الرسل کی نسبت یا خود ہماری نسبت ہمارے منصب خداداد کی نسبت ہمارے الہامات کی نسبت کچھ اعتراضات رکھتا ہو تو اگر وہ طالب حق ہے تو اس پر لازم و واجب ہے کہ وہ اعتراضات خوشخط قلم سے تحریر کر کے ہمارے پاس بھیج دے تاوہ تمام اعتر اصات ایک جگہ اکٹھے کر کے ایک رسالہ میں نمبر وار ترتیب دے کر چھاپ دیئے جائیں اور پھر نمبر وار ایک ایک کا مفصل فرمایا:۔جواب دیا جائے۔“ فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد نمبر ۳ صفحه ۴۶، ۴۷) قرآن کریم کے بالمقابل کسی دوسری الہامی کتاب کو افضل ثابت کرنے کا چیلنج دیتے ہوئے بالآخر میں اپنے ہر ایک مخالف کو مخاطب کر کے اعلانیہ طور پر متنبہ کرتا ہوں کہ اگر وہ فی الواقع اپنی کتابوں کو منجانب اللہ سمجھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ اس ذات کامل سے صادر ہیں جو اپنی پاک کتاب کو اس شرمندگی اور ندامت کا نشانہ بنانا نہیں چاہتا کہ اس کی کتاب صرف بیہودہ اور بے اصل دعووں کا مجموعہ ٹھہرے جن کے ساتھ کوئی ثبوت نہ ہو تو اس موقعہ پر ہمارے دلائل کے مقابل پر وہ بھی دلائل پیش کرتے رہیں کیونکہ بالمقابل باتوں کو دیکھ کر جلد حق سمجھ آ جاتا ہے اور دونوں کتابوں کا موازنہ ہوکر ضعیف اور قوی اور ناقص اور کامل کا فرق ظاہر ہو جاتا ہے لیکن یاد رکھیں کہ آپ ہی وکیل نہ بن بیٹھیں بلکہ ہماری طرح دعوی اور دلیل اپنی کتاب میں سے پیش کریں اور