حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 139
۔فرمایا:۔139 میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔وہ خوب جانتا ہے کہ میں مفتری نہیں کذاب نہیں۔اگر تم مجھے خدا تعالیٰ کی قسم پر بھی اور ان نشانات کو بھی جو اس نے میری تائید میں ظاہر کئے دیکھ کر مجھے کذاب اور مفتری کہتے ہو تو پھر میں تمہیں خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ کسی ایسے مفتری کی نظیر پیش کرو کہ باوجود اس کے ہر روز افتراء اور کذب کے جو وہ اللہ تعالیٰ پر کرے پھر اللہ تعالیٰ اس کی تائید اور نصرت کرتا جاوے۔چاہئے تو یہ تھا کہ اُسے ہلاک کرے۔مگر یہاں اس کے برعکس معاملہ ہے۔میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں صادق ہوں اور اس کی طرف سے آیا ہوں مگر مجھے کذاب اور مفتری کہا جاتا ہے۔اور پھر اللہ تعالیٰ ہر مقدمہ اور ہر بلا میں جو قوم میرے خلاف پیدا کرتی ہے مجھے نصرت دیتا ہے۔اور اُس سے مجھے بچاتا ہے۔اور پھر ایسی نصرت کی کہ لاکھوں انسانوں کے دل میں میرے لئے محبت ڈال دی۔میں اس پر اپنی سچائی کو حصر کرتا ہوں۔اگر تم کسی ایسے مفتری کا نشان دے دو کہ وہ کذاب ہو اور اللہ تعالیٰ پر اس نے افتراء کیا ہو اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی نصرتیں کی ہوں اور اس قدر عرصہ تک اسے زندہ رکھا ہو اور اس کی مُرادوں کو پورا کیا ہو دکھاؤ۔(لیکچر لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۷۶،۲۷۵) ۹۔لالہ شرمیت کے لئے یہ کافی ہے کہ اول تو اس نے میرا وہ زمانہ دیکھا جبکہ وہ میرے ساتھ اکیلا چند دفعہ امرتسر گیا تھا۔اور نیز براہین احمدیہ کے چھپنے کے وقت وہ میرے ساتھ ہی پادری رجب علی کے مکان پر کئی دفعہ گیا۔وہ خوب جانتا ہے کہ اس وقت میں ایک گمنام آدمی تھا۔میرے ساتھ کسی کو تعلق نہ تھا اور اس کو خوب معلوم ہے کہ براہین احمدیہ کے چھپنے کے زمانہ میں یعنی جبکہ یہ پیشگوئی ایک دنیا کے رجوع کرنے کے