حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 128
128 ہوگا جسکی تکذیب کی گئی ہوگی۔اور اس صورت کا نشان اوّل سے آخر تک کبھی دنیا میں ظاہر نہیں ہوا ہوگا۔اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ آپ ہر گز اس کی نظیر پیش نہیں کر سکیں گے۔“ (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۱۳۶، ۱۳۷) مخالفین کا رد عمل حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ۱۸۹۴ء میں ظاہر ہونے والے خسوف وکسوف کے نشان کو اپنی صداقت کا نشان قرار دیا تو اس کے رد عمل کے طور پر جو اعتراضات کئے گئے ان میں سے ایک اعتراض یہ تھا کہ یہ حدیث ضعیف ہے جس پر حضرت بانی سلسلہ نے یہ چیلنج دیا کہ: اب تک کسی عالم نے اس حدیث کو زیر بحث لاکر اس کو موضوع قرار نہیں دیا۔نہ یہ کہا کہ اس کے ثبوت کی تائید میں کسی دوسرے طریق سے مدد نہیں ملی بلکہ اس وقت سے جو یہ کتاب ممالک اسلامیہ میں شائع ہوئی تمام علماء وفضلاء متقدمین و متاخرین میں سے اس حدیث کو اپنی کتابوں میں لکھتے چلے آئے بھلا اگر کسی نے اکابر محدثین میں سے اس حدیث کو موضوع ٹھہرایا ہے تو اُن میں سے کسی محدث کا فعل یا قول پیش تو کرو جس میں لکھا ہو کہ یہ حدیث موضوع ہے۔اور اگر کسی جلیل الشان محدّث کی کتاب سے اس حدیث کا موضوع ہونا ثابت کر سکو تو ہم فی الفور ایک منوا روپیہ بطور انعام تمہاری نذر کرینگے جس جگہ چاہو مانتا پہلے جمع کرالو۔“ (تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد نمبر ۷ اصفحہ نمبر ۱۳۳ تا۱۳۴) ایک اور اعتراض یہ کیا گیا کہ ۱۸۹۴ء میں لگنے والا کسوف و خسوف دار قطنی والی حدیث کے مطابق نہیں کیونکہ اس حدیث کے مطابق رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن لگنا چاہئے تھا جبکہ یہ گرہن رمضان کی ۳ ار تاریخ کو ظاہر ہوا۔اس اعتراض کے جواب میں حضور نے یہ چیلنج دیا کہ:۔اور بعض متاخرین نے ذکر کیا ہے کہ چاند گرہن رمضان کی تیرہ تاریخ میں رات کو ہو