حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 126
126 اس کے ذمہ ہے۔“ انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۸) اس کتاب میں آگے چل کر پھر فرمایا کہ:۔اور اگر پہلے بھی کسی ایسے شخص کے وقت میں جو مہدی ہونے کا دعویٰ کرتا ہو چاند گرہن اور سورج گرہن رمضان میں اکٹھے ہو گئے ہوں تو اس کی نظیر پیش کریں۔“ (انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۵۰) پھر فرماتے ہیں۔اور منجملہ نشانوں کے ایک نشان خسوف وکسوف رمضان میں ہے۔کیونکہ دار قطنی میں صاف لکھا ہے کہ مہدی موعود کی تصدیق کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک نشان ہوگا کہ رمضان میں چاند اور سورج کو گرہن لگے گا۔چنانچہ وہ گرہن لگ گیا۔اور کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ مجھ سے پہلے کوئی اور بھی ایسا مدعی گذرا ہے جس کے دعویٰ کے وقت میں رمضان میں چاند اور سورج کا گرہن ہوا ہو۔سو یہ ایک بڑا بھاری نشان ہے جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے ظاہر کیا۔پس ان مولویوں کو چاہیئے تھا۔کہ اگر اس پیشگوئی کی صحت میں شک تھا تو ایسی کوئی نظیر سابق زمانہ میں سے بحوالہ کسی کتاب کے پیش کرتے۔جس میں لکھا ہوتا کہ پہلے ایسا دعوی ہو چکا ہے۔اور اس کے وقت میں ایسا خسوف کسوف بھی ہو چکا ہے سو پیشگوئی کا بھی مفہوم یہی ہے کہ یہ نشان کسی دوسرے مدعی کو نہیں دیا گیا خواہ صادق ہو یا کاذب۔صرف مہدی موعود کو دیا گیا ہے۔اگر یہ ظالم مولوی اس قسم کا خسوف کسوف کسی اور مدعی کے زمانہ میں پیش کر سکتے ہیں تو پیش کریں۔اس سے بیشک میں جھوٹا ہو جاؤں گا۔ورنہ میری عداوت کے لئے اس قدر عظیم