حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 125
125 چاند اور سورج کا گرہن ہوا جیسا کہ اب تم نے دیکھا۔پس اگر پہچانتے ہو تو بیان کرو اور تمہیں ہزار روپیہا انعام ملے گا اگر ایسا کر دکھاؤ۔پس ثابت کرو اور یہ انعام لے لو۔اور میں خدا تعالیٰ کو اپنے اس عہد پر گواہ ٹھہراتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو اور خدا سب گواہوں سے بہتر ہے۔اور اگر تم ثابت نہ کر سکو اور تم ہرگز ثابت نہ کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جو مفسدوں کیلئے تیار کی گئی ہے۔( ترجمه عربی عبارت از نورالحق حصہ دوم روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۱۲) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس سلسلہ میں نور الحق حصہ دوم میں مزید فرمایا کہ۔”اے نادانو اور سفیہو۔یہ حدیث خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے جو خیرالمرسلین ہیں اور یہ حدیث دار قطنی میں لکھی ہے جس کی تالیف پر ہزار برس سے زیادہ گزرا۔پس پوچھ لو ان سے۔اور اگر شک ہو تو ہمارے لئے کوئی ایسی کتاب یا اخبار نکالوجس میں تمہارا دعویٰ صاف دلیل کے ساتھ پایا جاوے۔اور کوئی ایسا قائل پیش کرو کہ اس قسم کا خسوف و کسوف اس نے دیکھا ہوا اگر تم سچے ہو۔اور تمہیں ہرگز مقدرت نہیں ہوگی کہ اس کی نظیر پیش کر سکو۔پس تم جھوٹوں کی پیروی مت کرو۔“ ( ترجمه عربی عبارت از نورالحق حصہ دوم روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۵۳) پھر فرماتے ہیں:۔دوسرا نشان مہدی موعود کا یہ ہے کہ اس کے وقت میں ماہ رمضان میں خسوف کسوف ہوگا اور پہلے سے جیسا کہ منطوق حدیث صاف بتلا رہا ہے کبھی کسی رسول یا نبی یا محدث کے وقت میں خسوف کسوف کا اجتماع رمضان میں نہیں ہوا۔اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے۔کسی مدعی رسالت یا نبوت یا محد ثیت کے وقت میں کبھی چاند گرہن اور سورج گرہن اکٹھے نہیں ہوئے۔اور اگر کوئی کہے کہ اکٹھے ہوئے ہیں تو بار ثبوت