حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 123 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 123

123 کسوف و خسوف حضرت امام مہدی علیہ السلام کی آمد کے نشانات میں سے منجملہ اور نشانوں کے ایک یہ نشان بھی تھا کہ رمضان شریف کے مہینے میں چاند اور سورج گرہن ہوگا۔یہ گرہن اپنی ذات میں کوئی خصوصیت نہیں رکھتا تھا کیونکہ گرہن ہمیشہ سے ہی لگتے آئے ہیں لیکن اس گرہن کو یہ خصوصیت حاصل تھی کہ اس کے متعلق پہلے سے معین تاریخیں بتا دی گئی تھیں کہ رمضان کے مہینہ میں فلاں تاریخوں میں چاند اور سورج گرہن لگے گا اور یہ کہ اس وقت ایک شخص مہدویت کا مدعی موجود ہوگا جو خدا کی طرف سے ہوگا۔چنانچہ ان سب شرائط کے اکٹھا ہو جانے سے یہ گرہن ایک خاص نشان قرار دیا گیا تھا۔چنانچہ وہ حدیث جس میں یہ پیشگوئی درج تھی اس کے الفاظ یہ ہیں۔ان لمهدينا ايتين لم تكونا منذ خلق السموت والارض ينكسف القمر لاول ليلة من رمضان و تنكسف الشمس في النصف منه۔(دار قطنی جلد دوم کتاب العيدين باب صفة الصلوة الخوف) یعنی ہمارے مہدی کیلئے دو نشانات ظاہر ہوں گے۔اور جب سے کہ زمین و آسمان بنے ہیں ایسے نشانات اور کسی مدعی کیلئے ظاہر نہیں ہوئے اور وہ نشانات یہ ہیں کہ چاند پر گرہن پڑنے کی تاریخوں میں سے پہلی تاریخ یعنی تیرہ کو اور سورج پر گرہن پڑنے کے دنوں میں سے بیچ کے دن یعنی اٹھائیس کو گرہن لگے گا۔گویا اس نشان کیلئے اس حدیث میں درج ذیل علامات ضروری قرار دی گئیں ہیں۔اول۔ایک مدعی مہدویت پہلے سے موجود ہو۔دوم۔رمضان کا مہینہ ہو۔