حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 74
74 66 بھیجی تو سمجھا جاوے گا کہ آپ اس سے بھی بھاگ گئے۔“ (سرالخلافہ۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۴۱۸) مگر جس طرح مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب اور ان کے دوسرے ساتھی پہلی کتابوں و کرامات الصادقین“ اور ”نور الحق وغیرہ کے مقابلہ میں جس کے ساتھ ہزار ہا روپیہ کا انعام مقرر تھا کتا بیں لکھنے سے عاجز آ گئے اسی طرح رسالہ سر الخلافہ کے مقابلہ سے بھی عاجز رہے۔حجۃ اللہ ۱۸۹۷ء میں مولوی عبدالحق غزنوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف ایک نہایت گندہ اشتہار شائع کیا۔اور آپ کی عربی دانی پر معترض ہوا اور اپنی قابلیت جتانے کے لئے عربی زبان میں مباحثہ کرنے کی دعوت دی۔اس دعوت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے منظور فرماتے ہوئے یہ شرط لگائی کہ چونکہ آپ کے نزدیک میں عربی نہیں جانتا اور محض جاہل ہوں اس لئے اگر آپ مجھ سے شکست کھا گئے تو آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے ایک معجزہ سمجھ کر فی الفور میری بیعت میں داخل ہونا ہوگا۔لیکن جب مولوی غزنوی صاحب نے کوئی جواب نہ دیا اور نہ اس کے ساتھ شیخ نجفی کچھ بولا تو آپ نے مولوی غزنوی اور شیخ نجفی کو مخاطب کر کے یہ رسالہ فصیح و بلیغ عربی میں ۱۲ مارچ ۱۸۹۷ء کو لکھنا شروع کیا اور ۲۶ مئی ۱۸۹۷ء کو مکمل کر دیا۔اس رسالہ میں جو اسرار ربانیہ اور محاسن ادبیہ پر مشتمل ہے آپ نے مکفرین علماء پر حجت قائم کرنے کیلئے نجفی اور غزنوی کے علاوہ مولوی محمد حسین بٹالوی کو بھی ان الفاظ میں دعوت مقابلہ دی ” و مـن يـكتـب مـنهـم كتابا كمثل هذه الرسالة۔الى ثلثة اشهر او الى الاربعة فقد كذبني صدقا وعدلا و اثبت انني لست من الحضرة الاحدية فهل في الحي حي يقضى هذه الخطة۔وينجى من التفرقة