حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 71
71 میں نمودار ہو۔اور میرے الہام کو جھوٹا قرار دے سکے اور مجھ سے انعام لے اور پھر لعنت سے بچ سکے نیز قوم وملت کی اس بارہ میں مدد کر سکے۔اور طعن و تشنیع کرنے والوں کی طعن سے بچ سکے۔تو ایسے شخص کیلئے میں نے مؤکد قسم کے ساتھ پانچ ہزار رائج الوقت ڈالر ہر حالت تنگی اور کشائش میں مقرر کر دیئے ہیں بشرطیکہ وہ اس کی نظیر لے آئیں۔خواہ انفرادی طور پر یا دشمنوں کی مدد کے ساتھ۔اور اگر وہ ایسا نہ کر سکیں اور ہرگز وہ ایسا نہ کرسکیں گے تو جان لو کہ یہ لوگ بالکل جاہل، جھوٹے اور فاسق ہیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔کوئی پادری بھی اس مقابلہ کیلئے تیار نہ ہوا۔اور اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ پیشگوئی روز روشن کی طرح پوری ہوگئی۔اس کے بعد حضور نے دار قطنی کی حدیث کے مطابق ۱۸۹۴ء میں ظاہر ہونے والے کسوف و خسوف کے عظیم الشان نشان کے بعد ”نورالحق حصہ دوم‘ لکھی اور علماء کے ان تمام اعتراضات کے جوابات معقول اور مدلل طریق سے بہ شرح وبسط دیئے۔اس رسالہ کے ٹائیٹل پیج پر " زیر عنوان تنبیہ یہ بھی تحریر فرمایا۔یہ کتاب مع پہلے حصہ اس کے پادری عماد الدین اور شیخ محمد حسین بٹالوی صاحب اشاعۃ السنہ اور ان کے انصار و اعوان کی حقیقت علمیہ ظاہر کرنے کیلئے تیار ہوئی ہے۔جس کے ساتھ پانچ ہزار روپیہ انعام کا اشتہار ہے۔اگر چاہیں تو روپیہ پہلے جمع کرا لیں اور اگر بالمقابل کتاب لکھنے کیلئے تیار ہوں اور انعامی روپیہ جمع کروانا چاہیں تو ایسی درخواست کی میعادا خیر جون ۱۸۹۴ ء تک ہے۔بعد اس کے سمجھا جائے گا کہ بھاگ گئے اور کوئی درخواست منظور نہیں ہوگی۔“ اور اسی طرح اتمام الحجہ میں بھی رسالہ نور الحق سے متعلق لکھا۔” ہماری طرف سے تمام پادریوں اور شیخ محمد حسین بٹالوی اور مولوی رُسل بابا امرتسری