حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 57 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 57

57 کہ ۱۸۱۵ء میں عیسائیوں کی تعداد ہندوستان میں اکانوے ہزار تھی اور ا ۱۸۸ء میں چار لاکھ ستر ہزار تک پہنچ گئی۔دوسری طرف آریہ سماج اور برہمو سماج کی تحریکوں نے جو اپنے شباب پر تھیں اسلام کو اپنے اعتراضات کا نشانہ بنایا ہوا تھا۔گویا اسلام دشمنوں کے نرغہ میں گھر کر رہ گیا تھا۔ان سب تحریکوں کا مقصد وحید اسلام کو کچل ڈالنا اور قرآن مجید اور بانی اسلام کی صداقت کو دنیا کی نگاہوں میں مشتبہ کرنا تھا۔آریہ سماج دیدوں کے بعد کسی الہام کے قائل نہ تھے۔اور تعلیم یافتہ مسلمان یورپ کے گمراہ کن فلسفہ سے متاثر ہو کر عیسائی ملکوں کی ظاہری اور مادی ترقیات کو دیکھ کر الہام الہی کے منکر ہورہے تھے اور علماء کا گروہ آپس میں تکفیر بازی کی جنگ لڑ رہا تھا۔اسلام کی بے بسی و بے کسی کا نقشہ مولانا حالی مرحوم نے ۱۸۹۷ء میں اپنی مسدس حالی میں یوں کھینچا ہے۔رہا دین باقی نہ اسلام باقی اک اسلام کا رہ گیا نام باقی پھر ملت اسلامیہ کی ایک باغ سے تمثیل دے کر فرماتے ہیں:۔پھر اک باغ دیکھے گا اجڑا سراسر جہاں خاک اڑتی ہے ہر سو برابر نہیں تازگی کا کہیں نام جس پر ہری ٹہنیاں جھڑ گئیں جس کی جل کر نہیں پھول پھل جس میں آنے کے قابل ہوئے دکھ جس کے جلانے کے قابل یہ آواز پیہم وہاں آرہی ہے کہ اسلام کا باغ ویراں یہی ہے براہین احمدیہ کے مضامین اس ماحول میں جبکہ قرآن مجید کی حقیقت اور آنحضرت ﷺ کی صداقت خود مسلمان کہلانے والوں پر بھی مشتبہ ہورہی تھی اور کئی ان میں عیسائیت کی آغوش میں آگرے تھے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے قرآن مجید کی فضیلت، آنحضرت ﷺ کی صداقت ، الہام کی ضرورت اور اس کی حقیقت پر مبنی ایک ایسی بے نظیر کتاب لکھی کہ جس سے جہاں دشمنان اسلام کے چھکے