حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 35 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 35

35 آسمان کا لفظ ملا کر عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔مگر یا در ہے کہ کسی حدیث مرفوع متصل میں آسمان کا لفظ پایا نہیں جاتا اور نزول کا لفظ محاورات عرب میں مسافر کے لئے آتا ہے اور نزیل مسافر کو کہتے ہیں۔چنانچہ ہمارے ملک کا بھی یہی محاورہ ہے کہ ادب کے طور پر کسی وارد شہر کو پوچھا کرتے ہیں کہ آپ کہاں اترے ہیں۔اور اس بول چال میں کوئی بھی یہ خیال نہیں کرتا کہ یہ شخص آسمان سے اترا ہے۔اگر اسلام کے تمام فرقوں کی حدیث کی کتابیں تلاش کر و تو صحیح حدیث تو کیا وضعی حدیث بھی ایسی نہیں پاؤ گے جس میں یہ لکھا ہو کہ حضرت عیسیٰ جسم عصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر کسی زمانہ میں زمین کی طرف واپس آئیں گے۔اگر کوئی حدیث پیش کرے۔تو ہم ایسے شخص کو بیس ہزار روپیہ تک تاوان دے سکتے ہیں اور تو بہ کرنا اور تمام اپنی کتابوں کا جلا دینا اس کے علاوہ ہو گا۔جس طرح چاہیں تسلی کر لیں۔“ (کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۲۲۶،۲۲۵) لفظ خلت کے متعلق ہزار روپیہ کا چیلنج حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وفات مسیح کے تعلق میں قرآن کریم کی آیت وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ۔۔۔الخ ( آل عمران ) میں لفظ خلت کے معنی قرآن کریم، اجماع صحابہ اور گزشتہ مفسرین کی تفاسیر کی روشنی میں موت یا قتل کرتے ہوئے وفات مسیح ثابت کی ہے۔مگر آپ کے ایک مخالف مولوی میاں عبدالحق غزنوی نے ۱۹۰۲ ء میں ایک اشتہار کے ذریعہ آپ کے معانی اور استدلال کو غلط قرار دیتے ہوئے لکھا کہ۔قرآن شریف میں فقط خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُل موجود ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ رسول اللہ سے پہلے گزرے۔“ ( بحوالہ تحفہ غزنویہ۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۷۲،۵۷۱) گویا مولوی صاحب کے نزدیک خلت کا معنی صرف گزرنے کے ہیں اور حضرت عیسی کا