حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 416
416 ” خدا تعالیٰ اس زمانہ میں بھی اسلام کی تائید میں بڑے بڑے نشان ظاہر کرتا ہے اور جیسا کہ اس بارہ میں میں خود صاحب تجربہ ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ اگر میرے مقابل پر تمام دنیا کی قو میں جمع ہو جائیں اور اس بات کا بالمقابل امتحان ہو کہ کس کو خدا غیب کی خبریں دیتا ہے اور کس کی دعائیں قبول کرتا ہے ورکس کی مدد کرتا ہے اور کس کے لئے بڑے بڑے نشان دکھاتا ہے تو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ہی غالب رہوں گا۔کیا کوئی ہے؟ کہ اس امتحان میں میرے مقابل پر آوے۔ہزارہا نشان خدا نے محض اس لئے مجھے دیئے ہیں کہ تا دشمن معلوم کرے کہ دین اسلام سچا ہے۔میں اپنی عزت نہیں چاہتا بلکہ اس کی عزت چاہتا ہوں جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۸۲٬۱۸۱) ”اب اس اشتہار میں اس حجت کو آپ لوگوں پر پورا کرنا مقصد ہے کہ وہ مسیح موعود در حقیقت یہی عاجز ہے۔قرآن کریم کو کھولو اور توجہ سے دیکھو کہ حضرت مسیح علیہ السلام بلا شبہ فوت ہو گئے۔اور اگر اس عاجز کے بارے میں شک ہو تو ایک فیصلہ نہایت آسان ہے کہ ہر ایک شخص آپ لوگوں میں سے جس کا مرید ہے اس کو اس عاجز کے مقابل پر کھڑا کرے تا صداقت کے نشان دکھلانے میں وہ میرے ساتھ میرا مقابلہ کر سکے۔اور یقینا سمجھو کہ اگر وہ مقابل پر آیا تو اس سے زیادہ رسوائی ہوگی جو حضرت موسیٰ کے مقابل پر بلعم کی ہوئی۔اور اگر وہ مقابلہ منظور نہ کرے اور حق کا طالب ہو تو خدا تعالیٰ اس کی درخواست پر اور اس کے حاضر ہونے سے نشان دکھلائے گا بشرطیکہ وہ اس جماعت میں داخل ہونے کے لئے مستعد ہو۔اور اگر اس اشتہار کے جاری