حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 402
402 تمام مذاہب کے پیروکاروں کو قبولیت دعا اور امور غیبیہ کے میدان میں مقابلہ کی دعوت اب اگر کوئی سچ کا طالب ہے خواہ وہ ہندو ہے یا عیسائی یا آریہ یا یہودی یا برہمو یا کوئی اور ہے اس کیلئے یہ خوب موقعہ ہے جو میرے مقابل پر کھڑا ہو جائے۔اگر وہ امور غیبیہ کے ظاہر ہونے اور دعاؤں کے قبول ہونے میں میرا مقابلہ کرسکا تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اپنی تمام جائیداد غیر منقولہ جو سہ ہزار روپیہ کے قریب ہوگی اس کے حوالہ کر دوں گا جس طور سے اس کی تسلی ہو سکے اسی طور سے تاوان ادا کرنے میں اس کو تسلی دوں گا۔میرا خدا واحد شاہد ہے کہ میں ہرگز فرق نہیں کروں گا۔اور اگر سزائے موت بھی ہو تو بدل و جان روا رکھتا ہوں۔میں دل سے یہ کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں سچ کہتا ہوں۔اور اگر کسی کو شک ہو اور میری اس تجویز پر اعتبار نہ ہو تو وہ آپ ہی کوئی احسن تجویز تاوان کی پیش کرے میں اس کو قبول کرلوں گا۔میں ہرگز عذر نہیں کروں گا۔اگر میں جھوٹا ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سخت سزا سے ہلاک ہو جاؤں۔“ آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۷۶) ماہم ہونے کا دعوی کرنے والوں کو پیشگوئیوں اور قرآنی معارف میں مقابلہ کی دعوت اب جس قدر میں نے بطور نمونہ کے پیشگوئیاں بیان کی ہیں درحقیقت میرے صدق یا کذب کے آزمانے کے لئے یہی کافی ہے۔اور جو شخص اپنے تئیں ملہم قرار