حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 387 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 387

387 عیسائیوں کو دیئے گئے چیلنج حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس امر کو ثابت کرنے کیلئے کہ روح القدس کی تائید عیسائیوں کے ساتھ ہے یا مسلمانوں کے ساتھ درج ذیل چیلنج دیتے ہوئے فرمایا۔اور یہ بھی ظاہر ہے کہ جو قوم روح القدس سے کسی وقت تائید دی گئی ہے وہ اب بھی دی جاتی ہے کیونکہ اب بھی وہی خدا ہے جو پہلے تھا اور قوم بھی وہی ہے جو پہلے تھی سو اگر حضرات عیسائیوں کو اس بات میں کچھ شک ہو کہ اس پیشگوئی کا مصداق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں حضرت مسیح نہیں ہیں تو نہایت صاف اور سہل طریق فیصلہ کرنے کا یہ ہے کہ چالیس دن تک کوئی ایسے پادری صاحب جو اپنی قوم میں نہایت بزرگ اور روح القدس کا بپتسما پانے کے لائق خیال کئے جاتے ہیں اور ان کی بزرگواری اور خدارسیدہ ہونے پر اکثر عیسائیوں کو اتفاق ہو وہ اس امر کی آزمائش و مقابلہ کے لئے که روح القدس کی تائیدات سے کون سی قوم عیسائیوں اور مسلمانوں میں سے فیض یاب ہے کم سے کم چالیس دن تک اس عاجز کی رفاقت اور مصاحبت اختیار کریں پھر اگر کسی کرشمہ روح القدس کے دکھلانے میں وہ غالب آجائیں تو ہم اقرار کر لیں گے کہ یہ پیش گوئی حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں ہے اور نہ صرف اقرار بلکہ اس کو چند اخباروں میں چھپوا بھی دیں گے لیکن اگر ہم غالب آگئے تو پادری صاحب کو بھی ایسا ہی اقرار کرنا پڑے گا اور چند اخباروں میں چھپوا بھی دینا ہوگا کہ وہ پیشگوئی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں نکلی مسیح کو اس سے کچھ علاقہ نہیں بلکہ اس تصفیہ کے لئے ہماری صحبت میں بھی رہنا کچھ ضروری نہیں۔“ سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۵ ۲۸۶،۲۸)