حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 342 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 342

342 نیت سے شائع کیا ہے نہ اس خیال سے کہ یہ گورنمنٹ میری تعظیم کرے یا مجھے انعام دے کیونکہ یہ میرا مذ ہب اور میرا عقیدہ ہے جس کا شائع کرنا میرے پر حق واجب تھا۔تعجب ہے کہ یہ گورنمنٹ میری کتابوں کو کیوں نہیں دیکھتی اور کیوں ایسی ظالمانہ تحریروں سے ایسے مفسدوں کو منع نہیں کرتی۔ان ظالم مولویوں کو میں کس سے مثال دوں۔یہ ان یہودیوں سے مشابہ ہیں جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو ناحق دکھ دینا شروع کیا اور جب کچھ پیش نہ گئی تو گورنمنٹ روم میں مخبری کی۔کہ یہ شخص باغی ہے۔سو میں بار بار اس گورنمنٹ عالیہ کو یاد دلاتا ہوں کہ میری مثال مسیح کی مثال ہے میں اس دنیا کی حکومت اور ریاست کو نہیں چاہتا اور بغاوت کو سخت بدذاتی سمجھتا ہوں میں کسی خونی مسیح کے آنے کا قائل نہیں اور نہ خونی مہدی کا منتظر صلح کاری سے حق کو پھیلانا میرا مقصد ہے۔اور میں تمام ان باتوں سے بیزار ہوں جو فتنہ کی باتیں ہوں یا جوش دلانے والے منصوبے ہوں۔گورنمنٹ کو چاہئے کہ بیدار طبعی سے میری حالت کو جانچے اور گورنمنٹ روم کی شتابکاری سے عبرت پکڑے اور خودغرض مولویوں یا دوسرے لوگوں کی باتوں کو سند نہ سمجھ لیوے کہ میرے اندر کھوٹ نہیں اور میرے لبوں پر نفاق نہیں۔اب میں پھر اپنے کلام کو اصل مقصد کی طرف رجوع دے کر ان مولوی صاحبوں کا نام ذیل میں درج کرتا ہوں جن کو میں نے مباہلہ کیلئے بلایا ہے اور میں پھر ان سب کو اللہ جلشانہ کی قسم دیتا ہوں کہ مباہلہ کیلئے تاریخ اور مقام مقرر کر کے جلد میدان مباہلہ میں آویں۔اور اگر نہ آئے اور نہ تکفیر اور تکذیب سے باز آئے تو خدا کی لعنت کے نیچے مریں گے۔اب ہم ان مولوی صاحبوں کے نام ذیل میں لکھتے ہیں جن میں سے بعض تو اس