حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 341 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 341

341 سکتا۔گواہ رہ اے زمین اور اے آسمان کہ خدا کی لعنت اس شخص پر کہ اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد نہ مباہلہ میں حاضر ہو اور نہ تکفیر اور تو ہین کو چھوڑنے اور نہ ٹھٹھا کرنے والوں کی مجلسوں سے الگ ہو۔اور اے مومنو! برائے خدا تم سب کہو کہ آمین۔مجھے افسوس سے یہ بھی لکھنا پڑا کہ آج تک ان ظالم مولویوں نے اس صاف اور سید ھے فیصلہ کی طرف رخ ہی نہیں کیا۔تا اگر میں ان کے خیال میں کا زب تھا تو احکم الحاکمین کے حکم سے اپنی سزا کو پہنچ جاتا۔ہاں بعض ان کے اپنی بدگوئی کیوجہ سے گورنمنٹ انگریزی میں جھوٹی شکائتیں میری نسبت لکھتے رہے اور اپنی عداوت باطنی کو چھپا کر مخبروں کے لباس میں نیش زنی کرتے اور کر رہے ہیں جیسا کہ شیخ بطالوی علیہ ما یستحقہ اگر ایسے لوگ خدا تعالیٰ کی جناب سے رد شدہ نہ ہوتے تو مجھے دکھ دینے کیلئے مخلوق کی طرف التجا نہ لے جاتے۔یہ نادان نہیں جانتے کہ کوئی بات زمین پر نہیں ہوسکتی جب تک کہ آسمان پر نہ ہو جائے اور گورنمنٹ انگریزی میں یہ کوشش کرنا کہ گویا میں مخفی طور پر گورنمنٹ کا بدخواہ ہوں یہ نہایت سفلہ پن کی عداوت ہے۔یہ گورنمنٹ خدا کی گناہ گار ہوگی اگر میرے جیسے خیر خواہ اور بچے وفادار کو بدخواہ اور باغی تصور کرے۔میں نے اپنی قلم سے گورنمنٹ کی خیر خواہی میں ابتدا سے آج تک وہ کام کیا ہے جس کی نظیر گورنمنٹ کے ہاتھ میں ایک بھی نہیں ہوگی اور میں نے ہزار ہاروپیہ کے صرف سے کتابیں تالیف کر کے ان میں جابجا اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلمانوں کو اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی چاہئے اور رعایا ہوکر بغاوت کا خیال بھی دل میں لانا نہایت درجہ کی بدذاتی ہے اور میں نے ایسی کتابوں کو نہ صرف برٹش انڈیا میں پھیلایا ہے بلکہ عرب اور شام اور مصر اور روم اور افغانستان اور دیگر اسلامی بلاد میں محض الہی