حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 319
319 بات کا بھی چیلنج دیا کہ وہ آپ کے خلاف سب مل کر بددعائیں کریں مگر ان کی بددعا ئیں انہیں کے خلاف پڑیں گی۔فرمایا۔میں محض نصیحتا اللہ مخالف علماء اور ان کے ہمخیال لوگوں کو کہتا ہوں کہ گالیاں دینا اور بد زبانی کرنا طریق شرافت نہیں ہے۔اگر آپ لوگوں کی یہی طینت ہے تو خیر آپ کی مرضی۔لیکن اگر مجھے آپ لوگ کا ذب سمجھتے ہیں تو آپ کو یہ بھی تو اختیار ہے کہ مساجد میں اکٹھے ہو کر یا الگ الگ میرے پر بددعائیں کریں اور رو رو کر میرا استیصال چاہیں۔پھر اگر میں کا ذب ہوں گا تو ضرور وہ دعائیں قبول ہو جائیں گی اور آپ لوگ ہمیشہ دعائیں کرتے بھی ہیں۔لیکن یاد رکھیں کہ اگر آپ اس قدر دعائیں کریں کہ زبانوں میں زخم پڑ جائیں اور اس قدر رو رو کر سجدوں میں گریں کہ ناک گھس جائیں اور آنسوؤں سے آنکھوں کے حلقے گل جائیں اور پلکیں جھڑ جائیں اور کثرت گریہ و زاری سے بینائی کم ہو جائے اور آخر دماغ خالی ہو کر مرگی پرنے لگے یا مالیخولیا ہو جائے تب بھی وہ دعائیں سنی نہیں جائیں گی کیونکہ میں خدا سے آیا ہوں۔جو شخص میرے پر بددعا کرے گا وہ بددعا اسی پر پڑے گی۔جو شخص میری نسبت یہ کہتا ہے کہ اس پر لعنت ہو وہ لعنت اس کے دل پر پڑتی ہے مگر اس کوخبر نہیں۔اور جو شخص میرے ساتھ اپنی کشتی قرار دے کر یہ دعائیں کرتا ہے کہ ہم میں جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے اس کا نتیجہ وہی ہے جو مولوی غلام دستگیر قصوری نے دیکھ لیا کیونکہ اس نے عام طور پر شائع کر دیا تھا کہ مرزا غلام احمد اگر جھوٹا ہے اور ضرور جھوٹا ہے تو وہ مجھ سے پہلے مرے گا۔اور اگر میں جھوٹا ہوں تو میں پہلے مر جاؤں گا۔اور یہی دعا بھی کی۔تو پھر آپ ہی چند روز کے بعد مر گیا۔اگر وہ کتاب چھپ کر شائع نہ ہو جاتی تو اس واقعہ پر کون اعتبار کر سکتا مگر اب تو وہ اپنی موت سے میری سچائی کی گواہی دے گیا۔پس ایک شخص جو ایسا