حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 317
317 حضرت بانی سلسلہ نے جہاں عمومی طور پر استجابت دعاء کے مقابلہ کے لئے چیلنج دئے وہاں معین طور پر ایک جماعت لنگڑوں، لولوں ، اندھوں، کانوں اور دوسرے بیماروں کی بذریعہ دعا صحت یابی چاہنے کے مقابلہ کے بھی متعدد چیلنج دیئے۔چنانچہ مولوی عبدالحق غزنوی کو اس سلسلہ میں مقابلہ کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا۔”اے عزیز آپ کا اختیار ہے کہ اس طرح پر جو خدا نے مجھے مامور کیا ہے ایک جماعت لنگڑوں ، لولوں، اندھوں اور کانوں اور دوسرے بیماروں کی لے آؤ۔اور پھر ان میں سے قرعہ اندازای کے طریق پر جس جماعت کو خدا میرے حوالہ کرے گا اگر میں مغلوب رہا تو جس قدر تم نے اشتہار میں گالیاں دی ہیں ان سب کا میں مستحق ہوں گا۔ورنہ وہ تمام گالیوں تمہاری طرف رجوع کریں گے۔“ تحفہ غزنویہ۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۵۰) اور اگر کوئی چالا کی اور گستاخی سے اس معجزہ میں میرا مقابلہ کرے اور یہ مقابلہ ایسی صورت سے کیا جائے کہ مثلاً قرعہ اندازی سے ہیں بیمار میرے حوالہ کئے جائیں تو خدا تعالیٰ ان بیماروں کو جو میرے حصہ میں آئیں شفایابی میں صریح طور پر فریق ثانی کے بیماروں سے زیادہ رکھے گا اور یہ نمایاں معجزہ ہوگا۔افسوس کہ اس مختصر رسالہ میں گنجائش نہیں ورنہ نظیر کے طور پر بہت سے عجیب واقعات بیان کئے جاتے۔منہ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۱ ح) و لیکن آج ۱۵ مئی ۱۹۰۸ء کو میرے دل میں ایک خیال آیا ہے کہ ایک اور طریق فیصلہ کا ہے۔شاید کوئی خدا ترس اس سے فائدہ اٹھاوے اور انکار کے خطرناک گرداب سے نکل آوے اور وہ طریق یہ ہے کہ میرے مخالف منکروں میں سے جو شخص اشد مخالف ہو اور مجھ کو کافر اور کذاب سمجھتا ہو وہ کم سے کم دس نامی مولوی صاحبوں یا دس