حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 250
250 تھے۔میاں فتح مسیح پیشگوئیوں میں مقابلہ کی بجائے ادھر ادھر کی بے مقصد اور مجبل باتیں کرنے لگا۔جس پر حاضرین میں سے ایک ہندو نے مداخلت کرتے ہوئے میاں صاحب سے کہا کہ یہ جلسہ صرف بالمقابل پیشگوئیاں کرنے کے لئے منعقد کیا گیا ہے لہذا ادھر ادھر کی بے محل باتیں کرنے کی بجائے حسب پروگرام بالمقابل الہامی پیشگوئیاں کرنی چاہئیں۔اس کے جواب میں میاں فتح مسیح نے کہا کہ میری طرف سے الہام کا دعویٰ نہیں ہے اور جو کچھ میرے منہ سے نکلا تھا میں نے یوں ہی فریق ثانی کی دعوت کے مقابل پر ایک دعویٰ کر دیا تھا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ان کا دعویٰ جھوٹا ہے۔سو ایسا ہی میں نے بھی ایک دعوی کیا۔اس پر حاضرین کی طرف سے میاں فتح مسیح پر کافی لعن طعن ہوئی اور اس طرح یہ جلسہ برخواست ہو گیا۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دوبارہ میاں فتح مسیح کے علاوہ دیگر معزز پادریوں کو چیلنج دیتے ہوئے فرمایا:۔”اب اس اشتہار کے جاری کرنے سے یہ مطلب ہے کہ اگر کوئی معزز یورپین عیسائی صاحب ملہم ہونے کا دعویٰ کرتے ہوں تو انہیں بصد رغبت ہماری طرف سے اجازت ہے کہ بمقام بٹالہ جہاں آخر رمضان تک انشاء اللہ ہم رہیں گے کوئی جلسہ مقرر کر کے ہمارے مقابل پر اپنی الہامی پیشگوئیاں پیش کریں بشرطیکہ فتح مسیح کی طرح اپنی دروغگوئی کا اقرار کر کے میدان مقابلہ سے بھاگنا نہ چاہیں۔اور نیز اس اشتہار میں پادری وائٹ بریجنٹ صاحب کہ جو اس علاقہ کے ایک معزز یورپین پادری ہیں ہمارے باتخصیص مخاطب ہیں۔اور ہم پادری صاحب کو یہ بھی اجازت دیتے ہیں کہ اگر وہ صاف طور پر جلسہ عام میں اقرار کر دیں کہ یہ الہامی طاقت عیسائی گروہ سے مسلوب ہے تو ہم ان سے کوئی پیشگوئی بالمقابل طلب نہیں کریں گے بلکہ حسب درخواست ان کی ایک جلسہ مقرر کر کے فقط اپنی طرف سے ایسی الہامی پیشگوئیاں پیش