حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 5
5 بسم اللہ الرحمن الرحیم مسئلہ وفات وحیات مسیح حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی ابتداء دیگر مسلمانوں کے رسمی عقیدہ کی طرح حضرت عیسی کے آسمان پر جانے اور پھر دوبارہ زمین پر واپس آنے کے قائل تھے۔جیسا کہ آپ نے اپنی پہلی کتاب ” براہین احمدیہ صفحہ ۴۳۱ اور صفحہ ۵۹۳ ح، ح پر حضرت عیسی علیہ السلام کے آسمان پر جانے اور پھر دوبارہ آنے کے متعلق لکھا تھا۔مگر ۱۸۹۰ء کے اواخر میں اللہ تعالی نے آپ پر اس امر کا انکشاف فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے جس مسیح ابن مریم کے آنے کی خبر دی تھی وہ تو ہی ہے۔پہلا مسیح آسمان پر خا کی جسم کے ساتھ ہرگز زندہ نہیں بلکہ وہ دیگر انبیاء کی طرح فوت ہو چکا ہے۔یہ الہام حسب ذیل ہے۔مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے۔وَكَانَ وَعْدُ اللَّهِ مَفْعُولًا “ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۰۲) اس سے قبل بھی کئی الہامات اور بشارات کے ذریعہ آپ مسیح موعود قرار دیئے گئے تھے مگر جب تک آپ پر صراحت کے ساتھ انکشاف نہ ہوا آپ اپنے پرانے عقیدہ پر قائم رہے۔اور عام مسلمانوں کی طرح حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو جسد عصری کے ساتھ آسمان ہی پر سمجھتے رہے۔اور مانتے رہے۔مگر جب انکشاف ہو گیا تو آپ نے اس کے اظہار میں ایک لمحہ کے لئے بھی توقف نہ فرمایا۔اور حیات مسیح کے عقیدہ کو ترک کرتے ہوئے یہ اعلان فرمایا کہ مسیح جو آنے والا تھا یہی ہے چاہو تو قبول کرو۔“ فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۰رح)