حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 234
234 لالہ گنگا رام صاحب کی ان شرطوں کو حضرت اقدس نے منظور فرماتے ہوئے لکھا کہ لالہ گنگا بشن کو چاہئے کہ وہ ان الفاظ میں قسم کھاویں کہ۔ناظرین کو یاد ہوگا کہ میں نے اپنے اشتہار ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء میں جس میں آریہ بوں کے خیالات لیکھرام کی موت کی نسبت لکھے گئے تھے دوسرے صفحہ کے دوسرے کالم میں لکھا تھا کہ اگر اب بھی کسی شک کرنے والے کا شک دور نہیں ہوسکتا اور میری نسبت یقین رکھتا ہے کہ گویا میں سازش قتل میں شریک ہوں تو ایسا شخص میرے سامنے قسم کھاوے جس کے الفاظ یہ ہوں کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ شخص سازش قتل میں شریک ہے اور اگر شیک نہیں تو ایک برس کے اندر مجھ پر وہ عذاب نازل ہو جو ہیبت ناک ہو۔مگر کسی انسان کے ہاتھوں سے نہ ہو۔اور نہ انسان کے منصوبوں کا اس میں کچھ دخل متصور ہو سکے۔پس اگر یہ شخص ایک برس تک ایسے عذاب سے بچ گیا تو میں مجرم ہوں گا اور اس سزا کے لائق جو ایک قاتل کو ہونی چاہئے۔اس اشتہار کے بعد ایک صاحب گنگا بشن نام نے اخبار سماچار مطبوعہ ۱/۳ اپریل ۱۸۹۷ء کے ذریعہ سے قسم کھانے کے لئے اپنے تئیں مستعد ظاہر کیا ور صاف طور پر اقرار کر دیا کہ حسب منشاء اشتہار ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء میں قسم کھانے کے لئے طیار ہوں بلکہ یہ بھی کہہ دیا کہ میری قسم سے آئندہ کوئی آپ کے سامنے کھڑا نہیں ہوگا۔یعنی تمام مخالف قو میں لاجواب ہو جائیں گی۔مگر اپنی طرف سے یہ زائد شرط لگا دی کہ میں اس صورت میں قسم کھاؤں گا کہ دس ہزار روپیہ میرے لئے جمع کر دیا جائے۔اس تصریح سے کہ اگر میں زندہ رہا تو اس روپیہ کا میں حق دار ہوں گا۔سو ہم نے اس نئی شرط کو بھی جو ہمارے اشتہار کے منشاء سے زائد تھی اس شرط کے ساتھ قبول کیا کہ لالہ گنگا بشن اس مفصلہ ذیل مضمون کی قسم بذریعہ کسی مشہور اخبار کے شائع