حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 232 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 232

232 جب ہندوؤں کی کوئی تدبیر بھی کارگر ثابت نہ ہوئی تو انہوں نے حکومت پر زوردائی کہ آپ کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ چلایا جائے۔چنانچہ گورنمنٹ کے مشہور اور ماہر سراغرساں اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے مقرر ہوئے۔لاہور اور امرتسر کے معزز مہمانوں کی تلاشیاں لی گئیں۔۱۸ را پریل ۱۸۹۷ء کو مسٹر لیمار چنڈ ایس پی گورداسپور اور میاں محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر متعینہ بٹالہ نے پولیس کی ایک مختصر جمعیت کے ساتھ آپ کے گھر کی تلاشی لی لیکن نتیجہ یہی نکلا کہ آپ اور آپ کی جماعت کو اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔آریہ پریس اور آریہ لیڈ ر چونکہ آپ کو ہی ذمہ دار سمجھتے تھے اس لئے آپ نے لیکھرام کی موت کے متعلق آریوں کے خیالات“ کے عنوان سے ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں آپ کو سازش قتل میں شریک سمجھنے والے کو یہ چیلنج دیا کہ۔اور اگر اب بھی کسی شک کرنے والے کا شک دور نہیں ہوسکتا۔اور مجھے اس قتل کی سازش میں شریک سمجھتا ہے جیسا کہ ہندو اخباروں نے ظاہر کیا ہے تو میں ایک نیک صلاح دیتا ہوں کہ جس سے سارا قصہ فیصلہ ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ ایسا شخص میرے سامنے قسم کھاوے جس کے الفاظ یہ ہوں کہ < میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ شخص سازش قتل میں شریک یا اس کے حکم سے واقعہ قتل ہوا ہے۔پس اگر یہ میچ نہیں ہے تو اے قادر خدا ایک برس کے اندر مجھ پر وہ عذاب نازل کر جو ہیبت ناک عذاب ہو۔مگر کسی انسان کے ہاتھوں سے نہ ہو۔اور نہ انسان کے منصوبوں کا اس میں کچھ دخل متصور ہو سکے۔پس اگر یہ شخص ایک برس تک میری بددعا سے بچ گیا تو میں مجرم ہوں اور اس سزا کے لائق کہ ایک قاتل کیلئے ہونی چاہئے۔اب اگر کوئی بہادر کلیجہ والا آریہ ہے جو اس طور سے تمام دنیا کو شبہات سے چھڑا دے تو اس طریق کو اختیار کرے۔یہ طریق نہایت سادہ اور راستی کا فیصلہ ہے شاید اس طریق سے ہمارے مخالف مولویوں کو بھی فائدہ پہنچے۔میں نے سچے دل سے یہ لکھا ہے مگر یادر ہے کہ ایسی آزمائش کرنے والا