حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 223
کرے گا۔“ 223 چنانچہ اس کے باوجود آتھم صاحب نے قسم نہ کھائی اور آخری چار ہزار روپیہ پرمبنی انعامی اشتہار سے چھ ماہ بعد ۲۷ جولائی ۱۸۹۶ء کو فیروز پور کے مقام پر فوت ہو گیا۔آتھم کی موت کے بعد حضور نے اپنے تمام مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔مگر تاہم اگر اب تک کسی عیسائی کو آتھم کس اس افتر ا پر شک ہو تو آسمانی شہادت سے رفع شک کرا لیوے۔آتھم تو پیشگوئی کے مطابق فوت ہو گیا۔اب وہ اپنے تئیں اس کا قائم مقام ٹھہرا کر آتھم کے مقدمہ میں قسم کھا لیوے۔اس مضمون سے کہ آتھم پیشگوئی کی عظمت سے نہیں ڈرا بلکہ اس پر یہ چار حملے ہوئے تھے۔اگر یہ قسم کھانے والا بھی ایک سال تک بچ گیا تو دیکھو میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ میں اپنے ہاتھ سے شائع کر دوں گا۔کہ میری پیشگوئی غلط نکلی۔اس قسم کے ساتھ کوئی شرط نہ ہوگی۔یہ نہاتی صاف فیصلہ ہو جائے گا۔اور جو شخص خدا کے نزدیک باطل پر ہے اس کا بطلان کھل جائے گا۔“ (انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۱۵) فرمایا۔میں یقینا جانتا ہوں کہ اگر کوئی میرے سامنے خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر اس پیشگوئی کے صدق سے انکار کرے تو خدا تعالیٰ اس کو بغیر سز انہیں چھوڑے گا خدا اس کو ذلیل کرے گا۔روسیاہ کرے گا۔اور لعنت کی موت سے اس کو ہلاک کرے گا کیونکہ اس نے سچائی کو چھپانا چاہا۔جو دین اسلام کے لئے خدا کے حکم اور ارادہ سے زمین پر ظاہر ہوئی۔مگر کیا یہ لوگ قسم کھالیں گے؟ ہرگز نہیں۔کیونکہ یہ جھوٹے ہیں۔“ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۲۰۹،۲۰۸) ”اور اگر تو تکذیب سے باز نہیں آتا اور خیال کرتا ہے کہ فتح نصاری کے لئے ہوئی نہ