حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 164 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 164

164 اس کا مقابلہ کر سکتی ہے تو اسے اختیار ہے کہ آزما کر دیکھ لے۔اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اگر کوئی مخالف ممتاز اور ذی علم لوگوں میں سے ان معجزات قرآنیہ میں سے کسی معجزہ کا انکاری ہو اور اپنی کتاب الہامی میں زور مقابلہ خیال کرتا ہو تو ہم حسب فرمائش اس کے کوئی قسم اقسام معجزات ذاتیہ قرآن شریف میں سے تحریر کر کے کوئی مستقل رسالہ شائع کر دیں گے پھر اگر اس کی الہامی کتاب قرآن شریف کا مقابلہ کر سکے تو اسے حق پہنچتا ہے کہ تمام معجزات قرآنی سے منکر ہو جائے اور جو شرط قرار دی جائے ہم سے پوری کرلئے۔(سرمہ چشمہ آریہ۔روحانی خزائن جلد نمبر ۲ صفحه ۲۷۳ تا ۲۷۵) قرآن کریم کے خلاف اعتراض ثابت کرنے پر فی اعتراض پچاس روپیہ بطور تاوان دینے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:۔سچ تو یہ ہے کہ جس شخص کے دل میں خدائے تعالیٰ کا خوف نہیں ہوتا اس کی عقل بھی باعث تعصب اور عناد کی زہروں کے نہایت ضعیف اور مردہ کی طرح ہو جاتی ہے اور جو بات عین حکمت اور معرفت کی ہو وہ اس کی نظر ستقیم میں سراسر عیب دکھائی دیتی ہے۔سواسی خیال سے یہ اشتہار جاری کیا جاتا ہے اور ظاہر کیا جاتا ہے کہ جس قدر اصول اور تعلیمیں قرآن شریف کی ہیں وہ سراسر حکمت اور معرفت اور سچائی سے بھری ہوئی ہیں اور کوئی بات ان میں ایک ذرہ مؤاخذہ کے لائق نہیں اور چونکہ ہر ایک مذہب کے اصولوں اور تعلیموں میں صدہا جزئیات ہوتی ہیں اور ان سب کی کیفیت کا معرض بحث میں لانا ایک بڑی مہلت کو چاہتا ہے اس لئے ہم اس بارہ میں قرآن شریف کے اصولوں کے منکرین کو ایک نیک صلاح دیتے ہیں کہ اگر ان کو اصول اور تعلیمات قرآنی پر اعتراض ہو تو مناسب ہے کہ وہ اول بطور خود خوب سوچ کر دو تین ایسے بڑے سے بڑے اعتراض بحوالہ آیات قرآنی پیش کریں جو ان کی دانست میں