چالیس جواہر پارے — Page 83
83 کرے۔آنحضرت صلی اللہ ہم کو عورت کے اس مقدس فریضہ کا اتنا خیال تھا کہ ایک دوسری حدیث میں آپ فرماتے ہیں کہ جس مسلمان عورت کا خاوند ایسی حالت میں فوت ہو تا ہے کہ وہ اپنی بیوی پر خوش ہے تو ایسی عورت خدا کے فضل سے جنت میں جائے گی اور اوپر والی حدیث کے دوسرے حصہ میں فرماتے ہیں کہ اگر اسلام میں اللہ کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنا جائز ہو تا تو میں حکم دیتا کہ عورت اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔اور یہ جو آنحضرت صلی الم نے فرمایا ہے کہ جو عورت اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کرتی وہ خدا کا حق بھی ادا نہیں کر سکتی۔اس میں دو گہری حکمتیں ہیں۔اول یہ کہ خواہ درجہ کا کتنا ہی فرق ہو یہ دونوں حقوق دراصل ایک ہی نوعیت کے ہیں مثلاً جس طرح خدا اپنے بندوں سے انتہائی محبت کرنے والا ہے اسی طرح خاوند کو بھی اپنی بیوی کے متعلق غیر معمولی محبت کا مقام حاصل ہوتا ہے اور جس طرح باوجود اس محبت کے خدا اپنے بندوں کا حاکم اور نگران ہے اسی طرح خاوند بھی بیوی کی محبت کے باوجو د گھر کا نگران اور قوام ہو تا ہے۔پھر جس طرح خدا اپنے بندوں کا رازق ہے اور ان کی روزی کا سامان مہیا کر تا ہے اسی طرح خاوند بھی اپنی بیوی کے اخراجات مہیا کرنے کا ذمہ دار ہے اور اسی طرح اور بھی کئی پہلو مشابہت کے ہیں اور یہ مشابہت اتنی نمایاں ہے کہ ہماری زبان میں تو خاوند کو مجازی خدا کا نام دیا گیا ہے اور لفظاً بھی خداوند اور خاوند ایک دوسرے سے بہت ملتے جلتے ہیں۔1 : ابن ماجہ کتاب النكاح باب حق الزوج على المرأة