چالیس جواہر پارے — Page 72
72 ( یعنی اپنی اولاد کو قتل نہ کرو) کے الفاظ فرمائے ہیں ان میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اگر تم اپنے بچوں کی عمدہ تربیت اور اچھی تعلیم کا خیال نہیں رکھو گے تو تم گویا انہیں قتل کرنے والے ٹھہر وگے۔باقی رہا اس حدیث کا دوسرا حصہ یعنی اولاد کا اکرام کرنا۔سو یہ بات وہ ہے جس میں اسلام کے سوا کسی دوسری شریعت نے توجہ ہی نہیں دی کیونکہ دنیا کے کسی اور مذہب نے اس نکتہ کو نہیں سمجھا کہ اولاد کے واجبی اکرام کے بغیر بچوں کے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا نہیں کئے جاسکتے۔بعض نادان والدین بچوں کی محبت کے باوجود ان کے ساتھ بظاہر ایسا پست اور عامیانہ سلوک کرتے اور گالی گلوچ سے کام لیتے ہیں کہ ان کے اندر و قار اور خود داری اور عزت نفس کا جذبہ ٹھٹھر کر ختم ہو جاتا ہے۔پس ہمارے آقا (فداہ نفسی) کی یہ تعلیم در حقیقت سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے کہ اپنی اولاد کے ساتھ بھی واجبی اکرام سے پیش آنا چاہیے تا ان کے اندر باوقار انداز اور اعلیٰ اخلاق پیدا ہو سکیں۔کاش ہم لوگ اس حکیمانہ تعلیم کی قدر پہچانیں۔☆☆☆