چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 73 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 73

73 16 بیوی کے انتخاب میں دینی پہلو کو مقدم کرو عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لأربع: لِمَالِهَا، وَلحَسَبِهَا وَجَمَالِهَا وَلِيبينهَا فَاظُفَرُ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ۔(صحیح مسلم کتاب الرضاع باب استحباب النكاح ذات الدين) ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ا ولم فرماتے تھے کہ بیوی کے انتخاب میں عموماً چار باتیں مد نظر رکھی جاتی ہیں۔بعض لوگ تو کسی عورت کے مال و دولت کی وجہ سے اس کے ساتھ شادی کرنے کی خواہش کرتے ہیں اور بعض لوگ عورت کے خاندان اور حسب و نسب کی وجہ سے شادی کے خواہاں ہوتے ہیں اور بعض لوگ عورت کے حسن و جمال پر اپنے انتخاب کی بنیاد رکھتے ہیں اور بعض لوگ دین اور اخلاق کی وجہ سے بیوی کا انتخاب کرتے ہیں۔سواے مرد مسلم ! تو دیندار اور با اخلاق رفیقہ حیات چن کر اپنی زندگی کو کامیاب بنانے کی کوشش کر ورنہ تیرے ہاتھ ہمیشہ خاک آلود رہیں گے۔تشریح : اس حدیث میں آنحضرت صلی علیم نے یہ بتانے کے بعد کہ دنیا میں عام طور پر بیوی کا انتخاب کن اصولوں پر کیا جاتا ہے مسلمانوں کو تاکید فرمائی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے انتخاب