چالیس جواہر پارے — Page 63
63 اور آنحضرت صلی علی یم کا یہ مبارک ارشاد انہی تدابیر کا حصہ ہے اور اس کے ساتھ اسلام اس بات پر بھی زور دیتا چلا جاتا ہے کہ اس قسم کے امتیازات محض عارضی ہو ا کرتے ہیں اور آج جو طبقہ نیچے ہے کل کو وہ ترقی کر کے اوپر آسکتا ہے۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے: لَا يَسْخَرُ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ د یعنی سوسائٹی کے کسی طبقہ کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے طبقہ کو ادنی خیال کر کے اسے تحقیر کی نظر سے دیکھے کیونکہ جو طبقہ نیچے ہے کل کو وہی طبقہ اوپر آکر تحقیر کرنے والوں سے بہتر بن سکتا ہے۔“ یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ اس حدیث میں جو صغیر اور کبیر کا لفظ آتا ہے اس سے عربی محاورہ کے مطابق ہر قسم کے چھوٹے بڑے مراد ہیں۔خواہ یہ فرق اثر ورسوخ کے لحاظ سے ہویا افسری ماتحتی کے لحاظ سے ہو یا دولت کے لحاظ سے یا رشتہ کے لحاظ سے ہو یا عمر کے لحاظ سے ہو۔بہر حال جس جہت سے بھی فرق ہو گا ہر بڑے کے لئے یہ حکم ہے کہ وہ اپنے سے چھوٹے کے ساتھ شفقت و محبت کا سلوک کرے اور ہر چھوٹے کے لئے یہ حکم ہے کہ وہ اپنے سے بڑے کے ساتھ واجبی ادب و احترام سے پیش آئے اور جو شخص ایسا نہیں کرتا اس کے متعلق ہمارے 66 آقا آنحضرت صلی الله علم فرماتے ہیں کہ لیس منا ”وہ ہم میں سے نہیں۔“ الحجرات : 12