چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page vi of 178

چالیس جواہر پارے — Page vi

vi ”ایک دفعہ ایک غریب مسلمان آنحضرت صلی ال نیم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے ماتھے پر عبادت اور ریاضت کا تو کوئی خاص نشان نہیں تھا مگر اس کے دل میں محبت رسول کی ایک چنگاری تھی جس نے اس کے سینہ میں ایک مقدس چراغ روشن کر رکھا تھا۔اس نے قرب رسالت کی دائگی تڑپ کے ماتحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔” یارسول اللہ ! قیامت کب آئے گی؟“ آپ نے فرمایا : تم قیامت کا پوچھتے ہو کیا اس کے لئے تم نے کوئی تیاری بھی کی ہے ؟ اس نے دھڑکتے ہوئے دل اور کپکپاتے ہوئے ہونٹوں سے عرض کیا۔”میرے آقا ! نماز روزے کی تو کوئی خاص تیاری نہیں لیکن میرے دل میں خدا اور اس کے رسول کی سچی محبت ہے۔“ آپ نے اسے شفقت کی نظر سے دیکھا اور فرمایا: الْمَرُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ یعنی پھر تسلی رکھو کہ خدائے و دود کسی محبت کرنے والے شخص کو اس کے محبوب سے جدا نہیں کرے گا۔“ یہ حدیث میں نے بچپن کے زمانہ میں پڑھی تھی لیکن آج تک جو میں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا ہوں میرے آقا کے یہ مبارک الفاظ قطب ستارے کی طرح میری آنکھوں کے سامنے رہے ہیں اور میں نے ہمیشہ یوں محسوس کیا کہ گویا میں نے ہی رسول خدا سے یہ سوال کیا تھا اور آپ نے مجھے ہی یہ جواب عطا فرمایا اور اس کے بعد میں اس نکتہ کو کبھی نہیں بھولا کہ نماز اور روزہ اور حج اور زکوۃ سب بر حق ہے مگر دل کی روشنی اور روحانیت کی چمک خدا اور اس کے رسول کی سچی محبت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔اگر انسان کو یہ نعمت