چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 24 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 24

24 تا کہ مسلمانوں کے وسیع مجاہد انہ پروگرام میں سہولت پیدا کی جائے۔اسی طرح آپ کے لئے زمین طہارت کا ذریعہ بھی بنادی گئی جس کا ادنی پہلو یہ ہے کہ اگر پانی نہ ملے تو ایک مسلمان وضو کی جگہ پاک مٹی کے ساتھ تیم کر کے نماز ادا کر سکتا ہے اور یہ پانی اور مٹی کا جوڑ حضرت آدم کی خلقت کے پیش نظر رکھا گیا ہے جنہیں قرآنی محاورہ کے مطابق گیلی مٹی سے پیدا کیا گیا تھا۔تیسری خصوصیت آپ کی یہ ہے کہ بخلاف سابقہ شریعتوں کے جن میں غنیمت کے مال کو جلا دینے کا حکم تھا۔آپ کے واسطے جنگوں میں ہاتھ آنے والا مال غنیمت حلال کیا گیا ہے جس میں یہ حکمت ہے کہ ایک تو قوموں کے اموال یو نہی ضائع نہ ہوں اور دوسرے ظالم لوگوں کو یہ سبق دیا جائے کہ اگر تم دوسروں پر دست درازی کروگے تو تمہارے اموال تم سے چھین کر مظلوموں کے ہاتھ میں دے دیئے جائیں گے اور تیسرے یہ کہ اسلامی غزوات میں کمزور مسلمانوں کے لئے مضبوطی کا سامان پیدا کیا جائے۔چوتھی خصوصیت آپ کی یہ ہے کہ آپ کو شفاعت کا ارفع مقام عطا کیا گیا ہے۔شفاعت کے لفظی معنی جوڑ کے ہیں اور اصطلاحی طور پر اس سے مراد عام دعا نہیں ہے بلکہ وہ مخصوص مقام مراد ہے جس میں ایک مقرب انسان اپنے ڈہرے تعلق کی بنا پر (یعنی ایک طرف خدا کا تعلق اور دوسری طرف بندوں کا تعلق) خدا کے حضور سفارش کرنے کا حق حاصل کرتا ہے اور اس سفارش کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اے خدا! میں ایک طرف تیرے ساتھ اپنے خاص تعلق کا واسطہ دے کر اور دوسری طرف تیری مخلوق کے لئے (یا فلاں مخصوص فرد کے لئے) اپنے قلبی درد کو تیرے سامنے پیش کر کے تجھ سے عرض کرتاہوں کہ