چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 87 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 87

87 پس اس معاملہ میں بڑی اصلاح کی ضرورت ہے۔جو رشتہ دار اپنے عزیز یتیموں کے ولی قرار پائیں ان کا فرض ہے کہ ان کی تعلیم و تربیت اور ان کے کیریکٹر کی بلندی اور ان کے اموال کی حفاظت کا پورا پورا اہتمام کریں اور جو ادارے اس کام کو اپنے ہاتھ میں لیں ان کے کارکنوں کا فرض ہے کہ یتیم بچوں کے لئے باپ کی طرح بن کر رہیں اور انہیں در در کے سوالی بنانے کی بجائے قوم کے خود دار اور مفید ممبر بنانے کی تدبیر اختیار کریں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کے دلوں میں یہ احساس نہ پیدا ہونے دیں کہ ہم گویا بے بس اور بے کس ہو کر دوسروں کی خیرات پر پڑے دوسری طرف یتیم بچوں کے لئے بھی مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔انہیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ دنیا کا سب سے بڑا انسان سید الکونین فخر الانبیاء علی الی کی بھی ایک یتیم تھا اور یتیم بھی وہ جس کا باپ اس کی پیدائش سے پہلے فوت ہو گیا تھا اور اس کی ماں بھی اسے چھ سات سالہ بچھہ چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہو گئی تھی۔پس اگر وہ نیکی کا راستہ اختیار کریں گے تو یقینا خدا انہیں بھی ہر گز ضائع نہیں کرے گا اور خدا سے بڑھ کر کس کی کفالت ہو سکتی ہے۔