چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 80 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 80

80 فرمانبرداری اور اس کی محبت کی قدر دان ہو اور پھر خاوند بیوی کے اس اتحاد کا اثر لازماً ان کی اولاد پر بھی پڑتا ہے اور اس طرح آج کی برکت گویا ایک دائمی برکت کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔یہ وہ سبق ہے جو ہمارے آقا صلی الیکم نے آج سے چودہ سو سال قبل اس ملک میں اور اس قوم کے درمیان رہتے ہوئے دیا جس میں عورت عموماً ایک جانور سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی تھی اور پھر اس حکم کو دو ایسی باتوں کے ساتھ مربوط کر دیا جن کے بلند معیار تک آج کی بظاہر ترقی یافتہ اقوام بھی نہیں پہنچ سکیں اور نہ کبھی پہنچ سکیں گی کیونکہ ان دو باتوں کے ساتھ مل کر عورت کے ساتھ حسن سلوک کا حکم اس ارفع مقام کو حاصل کر لیتا ہے جس کے اوپر اس میدان میں کوئی اور بلندی نہیں۔یہ دوباتیں ہمارے آقا کے الفاظ کے مطابق یہ ہیں کہ خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُ كُمْ لِأَهْلِي (اول) عورت کے ساتھ خاوند کا حسن سلوک صرف ضروری ہی نہیں ہے بلکہ دراصل حقوق العباد کے میدان میں مرد کا یہی وصف خدا کی نظر میں مرد کے درجہ اور مقام کا حقیقی پیمانہ ہے۔جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک میں بہتر ہے وہی خدا کی نظر میں بہتر (دوم) اس حسن سلوک کا معیار کسی شخص کی ذاتی رائے پر مبنی نہیں ہے (کیونکہ اپنے منہ سے تو ہر شخص اپنے آپ کو اچھا کہہ سکتا ہے) بلکہ اس کا معیار رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کا