چالیس جواہر پارے — Page 79
79 سلوک کرنے کو اسلام میں بہت نمایاں درجہ حاصل ہے حتی کہ تم میں سے خدا کی نظر میں بہتر انسان وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں بہتر ہے لیکن چونکہ ہر شخص اپنے سلوک کو بزعم خود اچھا قرار دے سکتا ہے اس لئے اس امکانی غلط فہمی کے ازالہ کے لئے آنحضرت صلی ا کرم فرماتے ہیں کہ اچھے سلوک کا معیار تمہارا کوئی خود تراشیدہ قانون نہیں ہو گا بلکہ اس معاملہ میں میرے نمونہ کو دیکھا جائے گا کیونکہ خدا کی دی ہوئی توفیق سے میں اپنے اہل کے ساتھ سلوک کرنے میں تم سب سے بہتر ہوں۔اس ارشاد کے ذریعہ آنحضرت صلی علی کریم نے مسلمان عورتوں کے ازدواجی حقوق کو اتنے اعلیٰ معیار پر قائم فرما دیا ہے کہ وقتی رنجشوں کو چھوڑ کر جو بعض اوقات اچھے سے اچھے گھر میں بھی ہو جاتی ہیں کوئی شریف بیوی کسی نیک مسلمان کے گھر میں دکھ کی زندگی میں مبتلا نہیں ہو سکتی اور حق یہ ہے کہ اگر عورت کو خاوند کی طرف سے سکھ حاصل ہو تو وہ دنیا کی ہر دوسری تکلیف کو خوشی کے ساتھ برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاتی ہے اور اس سکھ کے مقابلہ میں کسی شریف عورت کے نزدیک دنیا کی کوئی اور نعمت کچھ حقیقت نہیں رکھتی لیکن اگر ایک عورت کے ساتھ اس کے خاوند کا سلوک اچھا نہیں تو خاوند کی دولت بھی اس کے لئے لعنت ہے اور خاوند کی عزت بھی اس کے لئے لعنت ہے اور خاوند کی صحت بھی اس کے لئے لعنت ہے کیونکہ ان چیزوں کی قدر صرف خاوند کی محبت اور گھر کی سکینت کے میدان میں ہی پیدا ہوتی ہے۔پس اس بات میں ذرہ بھر بھی شک کی گنجائش نہیں کہ آنحضرت صلی للی کم کا یہ مبارک ارشاد گھروں کی چار دیواری کو جنت بنا دینے کے لئے کافی ہے بشر طیکہ عورت بھی خاوند کی