چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 62 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 62

62 عہدوں اور دولت پیدا کرنے کے ذرائع کے حصول میں سب کے واسطے برابر کے حقوق تسلیم کئے اور دوسری طرف سوسائٹی کے مختلف طبقات میں ایک طرف سے شفقت و رحمت اور دوسری طرف سے ادب و احترام کا مضبوط پل باندھ کر سب کو ایک لڑی میں پرو دیا۔جن لوگوں کو زندگی کی جدوجہد میں دوسروں سے آگے نکلنے کا موقع میسر آجاتا ہے ان کے لئے حکم ہے کہ وہ پیچھے رہنے والوں کے ساتھ جب تک کہ وہ پیچھے ہیں شفقت ورحم کا سلوک کریں اور جو لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں ان کے لئے یہ حکم ہے کہ وہ آگے نکل جانے والوں کے ساتھ جب تک کہ وہ آگے ہیں واجبی ادب و احترام سے پیش آئیں۔اس زریں ہدایت کے ذریعہ ہمارے آقا صلی الم نے سوسائٹی کے مختلف طبقات کے درمیان ناواجب کشمکش کی جڑھ کاٹ کر رکھ دی ہے مگر افسوس ہے کہ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اس تعلیم پر عمل کرتے ہیں۔اگر کسی شخص کو کسی وجہ سے کوئی طاقت حاصل ہو جاتی ہے تو وہ تکبر میں مبتلا ہو کر اپنے سے نیچے کے لوگوں کو کچل دینے کا متمنی ہوتا ہے اور اگر کوئی شخص زندگی کی دوڑ میں کسی وجہ سے پیچھے رہ جاتا ہے تو وہ حسد میں جل کر آگے نکل جانے والوں کو نیچے گرانے اور تباہ کرنے کے درپے ہو جاتا ہے۔یہ دونوں قسم کے لوگ اسلام کی منصفانہ تعلیم سے کوسوں دور ہیں۔اسلام یقیناً طبقات پیدا نہیں کرتا مگر جو وقتی امتیاز افراد کے دماغی قوی یا ذاتی جد وجہد کے فرق کی وجہ سے خود بخود طبعی رنگ میں پیدا ہو جاتا ہے وہ جب تک اسی قسم کے طبعی طریق پر دور نہ ہو اسلام اس کی طرف سے آنکھیں بند کر کے حقائق کو نظر انداز بھی نہیں کرتا بلکہ اسے اپنے نوٹس میں لاکر اس کے ناگوار نتائج کو روکنے کے لئے مناسب تدابیر اختیار کر تا ہے