چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 55 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 55

55 نہیں اور صاف اعلان کرتا ہے کہ لا إكراه في الدين (یعنی دین کے معاملہ میں کوئی جبر نہیں) لیکن جب کوئی شخص خوشی اور شرح صدر کے ساتھ اسلام قبول کرتا ہے تو پھر اسلام اس سے اس نظم و ضبط کی توقع رکھتا ہے جو ایک منظم قوم کے شایان شان ہے۔وہ اپنے ہر فرد کو کامل اطاعت کا نمونہ بنانا چاہتا ہے اور افسروں کے حکموں پر حیل و حجت کی اجازت نہیں دیتا کہ جو حکم پسند ہو اوہ مان لیا اور جو نا پسند ہوا اس کا انکار کر دیا۔”سنو اور مانو “ اسلام کا ازلی نعرہ رہا ہے۔مسلمان کے اس ضابطہ اطاعت میں صرف ایک ہی استثناء ہے اور وہ یہ کہ اسے کسی ایسی بات کا حکم دیا جائے جو صریح طور پر خدا اور اس کے رسول یا کسی بالا افسر کے حکم کے خلاف ہو۔اس کے علاوہ ہر حکم میں خواہ وہ کچھ ہو اور کیسے ہی حالات میں دیا جائے ”سنو اور مانو کا اٹل قانون چلتا ہے۔اور یہ جو اس حدیث میں الطاعة (یعنی مانو) کے لفظ کے ساتھ السّبُعُ (یعنی سنو) کے لفظ کا اضافہ کیا گیا ہے اس میں اس لطیف حکمت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ ایک مسلمان کا کام صرف منفی قسم کی اطاعت نہیں ہے کہ جو حکم اسے پہنچ جائے وہ اسے مان لے اور بس بلکہ اسے مثبت قسم کی شوق آمیز اطاعت کا نمونہ دکھانا چاہیے اور گویا اپنے افسروں کی طرف کان لگائے رکھنا چاہیے کہ کب ان کے منہ سے کوئی بات نکلے اور کب میں اسے مانوں ور نہ محض اطاعت کے لئے الطاعة (یعنی مانو) کا لفظ بولنا کافی تھا اور السبع ( یعنی سنو) کا لفظ زیادہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔اس لفظ کا زیادہ کرنا یقینا اسی غرض سے ہے کہ تا 1 : البقرة: 257