چالیس جواہر پارے — Page 54
54 11 اسلام میں اطاعت کا بلند معیار عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ السَّبْعُ وَ الطاعَةُ عَلَى المَرْءِ المُسْلِمِ فِيهَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَالَهُ يُؤْمَرُ مَعْصِيَةٍ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَة (صحيح البخاري كتاب الاحكام باب السمع والطاعة للامام مالم تكن معصية ) ترجمہ: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر مسلمان پر اپنے افسروں کی ہر بات سننا اور ماننا فرض ہے خواہ اسے ان کا کوئی حکم اچھا لگے یا برا لگے سوائے اس کے کہ وہ کسی ایسی بات کا حکم دیں جس میں خدا اور رسول کے کسی حکم کی یا کسی بالا افسر کے حکم کی نافرمانی لازم آتی ہو۔اگر وہ ایسی نافرمانی کا حکم دیں تو پھر اس میں ان کی اطاعت فرض نہیں۔تشریح: یہ حدیث اسلامی معیار اطاعت کا بنیادی اصول پیش کرتی ہے اسلام ایک انتہا درجہ کا نظم و ضبط والا مذہب ہے۔وہ کسی شخص کو اپنے حلقہ میں جبر أداخل کرنے کا موید