چالیس جواہر پارے — Page 43
43 تشریح: جہاں اوپر والی حدیث میں جہاد فی سبیل اللہ کی تحریک کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ کس طرح ہر سچے مومن کو اپنے مال اور اپنی جان کے ذریعہ ہر وقت جہاد میں لگے رہنا چاہیے وہاں اس حدیث میں جہاد کے بہت سے میدانوں میں سے ایک میدان کے متعلق جہاد کا طریق کار بیان کیا گیا ہے۔یہ میدان قومی اور خاندانی اور انفرادی اصلاح سے تعلق رکھتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ یکم فرماتے ہیں کہ بہت سی دینی اور اخلاقی بدیاں اس لئے پھیلتی ہیں کہ لوگ انہیں دیکھ کر خاموشی اختیار کرتے ہیں اور ان کی اصلاح کے لئے قولی یا عملی قدم نہیں اٹھاتے۔اس طرح نہ صرف بدی کا دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے کیونکہ ایک شخص کے برے نمونہ سے بیسیوں مزید آدمی خراب ہوتے ہیں بلکہ لوگوں کے دلوں میں سے بدی کا رعب بھی کم ہونے لگتا ہے۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ قانونی طریق کے علاوہ سوسائٹی میں سے بدی کو مٹانے کے دو ہی بڑے ذریعے ہیں۔ایک ذریعہ بزرگوں اور نیک لوگوں کی نگرانی اور نصیحت ہے جو بے شمار کمزور طبیعتوں کو سنبھالنے کا موجب ہو جاتی ہے اور دوسرا ذریعہ بدی کا وہ رعب اور ڈر ہے جو سوسائٹی کی رائے عامہ کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے اور یہ بھی لا تعداد لوگوں کو بدی کے ار تکاب سے روک دیتا ہے مثلاً ایک بچہ بد صحبت میں مبتلا ہو کر خراب ہونے لگتا ہے مگر اس کے والد یا والدہ یا کسی اور نیک بزرگ کی بر وقت نگرانی اور نصیحت اسے گرتے گرتے سنبھال لیتی ہے یا ایک شخص اپنے اندر ایک خاص قسم کی بدی کی طرف میلان پیدا کر نا شروع کر دیتا ہے مگر اسے سوسائٹی کا رعب اور بدنامی کا ڈر اس میلان سے روک کر پھسلنے سے بچالیتا ہے۔