چالیس جواہر پارے — Page 41
41 جائے اور جان کا جہاد یہ ہے کہ اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت (یعنی تبلیغ اور تربیت وغیرہ) میں لگایا جائے اور موقع پیش آنے پر جان کی قربانی سے بھی دریغ نہ کیا جائے۔جو شخص ان دو قسموں کے جہادوں میں دلی شوق کے ساتھ حصہ لیتا ہے وہ خدا کی طرف سے ان اعلیٰ انعاموں کا حق دار قرار پاتا ہے جو ایک مجاہد کے لئے مقدر ہیں مگر گھر میں بیٹھ کر نماز ، روزہ کرنے والا مسلمان ایک قاعد والی بخشش سے زیادہ امید نہیں رکھ سکتا۔دیکھو کہ ہمارے آقا صلی علیہ کم کی ہم پر کس درجہ شفقت ہے کہ ایک انتہائی طور پر رحیم باپ کی طرح فرماتے ہیں کہ بے شک نماز، روزہ کے ذریعہ نجات تو پالو گے اور عذاب سے بچ جاؤ گے مگر اپنے تخیل کو بلند کر کے ان انعاموں کو حاصل کرنے کی کوشش کرو جو ایک مجاہد فی سبیل اللہ کے لئے مقدر کئے گئے ہیں کیونکہ اس کے بغیر قومی زندگی کا قدم کبھی بھی ترقی کی بلندیوں کی طرف نہیں اٹھ سکتا بلکہ ایسی قوم کی زندگی ہمیشہ خطرے میں رہے گی۔اس تعلق میں سب سے مقدم فرض ماں باپ کا اور ان سے اتر کر سکولوں کے اساتذہ اور کالج کے پروفیسروں کا ہے کہ وہ بچپن کی عمر سے ہی بچوں میں مجاہدانہ روح پیدا کرنے کی کوشش کریں اور انہیں قاعد انہ زندگی پر ہر گز قانع نہ ہونے دیں۔