چالیس جواہر پارے — Page 40
40 کریں اور خدا کے دین اور اس کے رسول کی امت کی خدمت میں دن رات کوشاں رہیں۔حق یہ ہے کہ ایک قاعد مسلمان جس کے دین کا اثر اور اس کے دین کا فائدہ صرف اس کی ذات تک محدود ہے وہ اپنے آپ کو اعلیٰ نعمتوں سے ہی محروم نہیں کرتا بلکہ اپنے لئے ہر وقت کا خطرہ بھی مول لیتا ہے کیونکہ بوجہ اس کے کہ وہ بالکل کنارے پر کھڑا ہے۔اس کی ذرا سی لغزش اسے نجات کے مقام سے نیچے گرا کر عذاب کا نشانہ بنا سکتی ہے مگر ایک مجاہد مسلمان اس امکانی خطرہ سے بھی محفوظ رہتا ہے۔باقی رہا یہ سوال کہ خدا کی راہ میں مجاہد بننے کا کیا طریق ہے ؟ سو گو جہاد فی سبیل اللہ کی بیسیوں شاخیں ہیں مگر قرآن شریف نے دو شاخوں کو زیادہ اہمیت دی ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔- فَضَّل اللهُ الْمُجَاهِدِ بْنَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً 1 یعنی خدا تعالیٰ نے دین کے رستہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ذریعہ جہاد کرنے والے لوگوں کو گھروں میں بیٹھ کر نیک اعمال بجالانے والوں پر بڑی فضیلت دی ہے۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کا بڑا ذریعہ مال اور جان ہے۔مال کا جہاد یہ ہے کہ اسلام کی اشاعت اور اسلام کی ترقی اور اسلام کی مضبوطی کے لئے بڑھ چڑھ کر روپیہ خرچ کیا 1 : النساء : 96